ایران میں انسانی ضروریات کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، 30 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں: ناروے پناہ گزین کونسل

ناروے کی پناہ گزین کونسل کے سربراہ جان ایگیلینڈ نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں انسانی ضروریات کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور جنگ کا بوجھ عام شہریوں کے لیے انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ اس جنگ کو اکثر عالمی سیاست کے ایک کھیل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عام خاندانوں کے لیے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ اندازوں کے مطابق، ایران میں 30 لاکھ سے زائد افراد اندرونِ ملک بے گھر ہو چکے ہیں۔

جان ایگیلینڈ کے مطابق، ایران ایک بڑا ملک ہے اور صرف دارالحکومت تہران کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے، جہاں دن رات بمباری جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاکھوں افراد تہران سمیت دیگر شہروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں اور نسبتا چھوٹے شہروں کا رخ کر رہے ہیں، تاہم وہاں بھی حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم کے 110 امدادی کارکن مختلف علاقوں میں کام کر رہے ہیں اور 8 صوبوں میں امدادی مراکز قائم ہیں، لیکن ضرورتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ان کے بقول امدادی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، وسائل کم ہیں اور عملہ بھی ناکافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر امدادی سرگرمیاں مقامی تنظیمیں انجام دے رہی ہیں، جبکہ رسد کی ترسیل میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ بحری اور فضائی راستے متاثر ہو چکے ہیں۔ اس وجہ سے ضروری امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

جان ایگیلینڈ کے مطابق اب حملے صرف فوجی یا حساس تنصیبات تک محدود نہیں رہے بلکہ بنیادی ڈھانچے، سرکاری خدمات اور شہری سہولیات بھی نشانہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے جنگ طول پکڑے گی، ویسے ویسے روزمرہ زندگی مزید متاثر ہوگی، سرکاری نظام کمزور پڑے گا، سپلائی نظام ٹوٹ جائے گا، بازار بند ہوں گے یا تباہ ہو جائیں گے اور امدادی کام مزید مشکل ہوتا جائے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں