عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو چکا ہے اور اس کے اتحادیوں کو چاہیے کہ اسے اس ناپسندیدہ تنازع سے نکالنے میں مدد دیں۔
ایک مضمون میں انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران دو مرتبہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بڑے معاہدے کے قریب پہنچنے کی صورتحال پیدا ہوئی، مگر 28 فروری کو اہم مذاکرات کے چند گھنٹوں بعد ہی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی نے امن کی امید کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی، جس میں اس نے ہمسایہ ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، ایک ناگزیر نتیجہ تھی، اگرچہ یہ افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔
بدر البوسعیدی کے مطابق ایران ایک ایسی جنگ کا سامنا کرنا دیکھ رہا ہے جس کا مقصد اس کے نظام کا خاتمہ ہے، اس لیے ایرانی قیادت کے لیے یہ شاید واحد ممکنہ راستہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ اس جنگ میں الجھ گئی، حالانکہ یہ امریکہ کی جنگ نہیں ہے اور ایسا کوئی واضح امکان نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل اس سے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں گے۔