ایران کے دارالحکومت تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے کہا ہے کہ جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہر میں کم از کم 12 ہزار رہائشی عمارتیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، گورنر نے بتایا کہ ان حملوں سے شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے نقصانات کے ازالے کے لیے بلدیاتی دفاتر میں درخواستیں جمع کروائیں تاکہ انہیں معاوضہ فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، ایران کی وزارتِ ثقافت و آثارِ قدیمہ نے کہا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 50 سے زائد تاریخی اور ثقافتی مقامات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اسلامی ریپبلک نیوز ایجنسی (ارنا) کے مطابق، کم از کم 56 عجائب گھروں، تاریخی عمارتوں اور ثقافتی مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں سے 19 مقامات دارالحکومت تہران میں واقع ہیں۔ ان متاثرہ مقامات میں گلستان محل، تہران بازار اور سابق سینیٹ کی عمارت بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، وسطی شہر اصفہان کے تاریخی مقامات بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں، جہاں نقشِ جہاں اسکوائر میں واقع امام شاہ مسجد کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔