‘دنیا کے نمایاں اصلاحات کرنے والے ممالک میں سے ایک’، ازبکستان وسطی ایشیا کے پُل کے طور پر ابھر رہا ہے

وسطی ایشائی ملک ازبکستان کی معیشت گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اقتصادی اصلاحات کے باعث خطے کی متنوع معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے۔ورلڈ بینک نے حالیہ برسوں میں ازبکستان کو ‘دنیا کے نمایاں اصلاحات کرنے والے ممالک میں سے ایک’ قرار دیا ہے اور مسلسل اپنے بہت سے دوست ممالک سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ، گزشتہ چند برسوں میں اصلاحاتی اقدامات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ازبکستان کی اقتصادی ترقی کو نئی رفتار دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں 7.7 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سن 2020 کے بعد سے ملک کی معیشت مسلسل سالانہ 6 فیصد سے زائد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، معاشی ترقی کے اس رجحان میں مختلف شعبوں کی سرگرمیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ سال خدمات کے شعبے میں تقریبا 15 فیصد اضافہ ہوا، تعمیرات کے شعبے کی پیداوار 14 فیصد سے زیادہ بڑھی جبکہ صنعتی پیداوار میں بھی تقریبا 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا اور ان کی مجموعی مالیت تقریبا 24فیصد بڑھ کر 33 ارب 800 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ حکومت کا ہدف ہے کہ برآمدات میں مزید اضافہ ہو اور اس مقصد کے لیے مقامی کاروباری اداروں کو بیرون ملک منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے خصوصی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ ایک ایسے ہی منصوبے کے تحت 100 مقامی کمپنیوں کو غیر ملکی خریداروں کے ساتھ معاہدے حاصل کرنے کے طریقوں کے بارے میں عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ حکام کو امید ہے کہ رواں سال برآمدات میں مزید 16 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

تجارت کے میدان میں بھی ازبکستان نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ سال ملک کی مجموعی بیرونی تجارت 81 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ اس تجارت میں سب سے بڑا شراکت دار چین رہا، جس کے ساتھ دو طرفہ تجارت 17 ارب ڈالر سے زیادہ رہی۔ اس کے علاوہ اہم تجارتی شراکت داروں میں روس، قازقستان، افغانستان، جنوبی کوریا، جرمنی اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ازبکستان نے عالمی سطح پر متوازن خارجہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اس کے تعلقات امریکہ، برسلز، روس اور چین سمیت مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ بہتر ہیں، جس سے ملک کو اقتصادی فائدہ پہنچ رہا ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے میدان میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2025 میں ازبکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت 43 ارب ڈالر سے زیادہ رہی، جو اس سے پہلے سال 35 ارب ڈالر تھی۔ یہ سرمایہ کاری یورپ، ایشیا اور خلیجی ممالک سمیت مختلف علاقوں سے آئی۔ اندازوں کے مطابق، اس وقت ملک میں 17 ہزار 500 سے زیادہ ایسے کاروباری ادارے سرگرم ہیں جن میں غیر ملکی سرمایہ شامل ہے۔ ان میں زیادہ تر سرمایہ کاری توانائی، صنعت، بنیادی ڈھانچے اور نقل و حمل کے شعبوں میں کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 5 برسوں کے دوران ایسے اداروں کی تعداد تقریبا دوگنی ہو چکی ہے۔

سرمایہ کاری کے نمایاں منصوبوں میں بی وائی ڈی کی برقی گاڑیوں کا کارخانہ بھی شامل ہے جو ازبکستان کے شہر جیزاخ میں قائم کیا گیا ہے۔ یہ وسطی ایشیا میں برقی گاڑیوں کی تیاری کی پہلی بڑی فیکٹری ہے۔ اس منصوبے میں مقامی کمپنی از آٹو بھی شریک ہے۔ اس کارخانے سے پہلی گاڑی 2024 میں تیار کی گئی اور اس کی ابتدائی سالانہ پیداواری صلاحیت 50 ہزار گاڑیوں کی ہے جسے مستقبل میں 5 لاکھ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

توانائی کے شعبے میں بھی ازبکستان مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ سن 2030 تک ملک کی مجموعی توانائی میں قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ 54 فیصد تک بڑھا دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے سعودی عرب، ابوظہبی اور فرانس کی کمپنیوں کے ساتھ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ صرف سعودی عرب نے 2023 سے 2025 کے درمیان تقریبا 4.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس کا بڑا حصہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں لگایا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیگر سرمایہ کاری کے منصوبوں میں کوکا کولا کی جانب سے نمنگان اور سمرقند میں بوتل سازی کے کارخانوں پر 64 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ اسی طرح آسٹریا کی کمپنی لاسیلس برگر نے 40 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے چینی مٹی کی ٹائلیں بنانے کا منصوبہ شروع کیا جبکہ چین کی کمپنی ہائسینس نے تاشقند کے علاقے میں ایئر کنڈیشنر بنانے کے لیے ساڑھے 12 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

ازبکستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس تجارت کا حجم 2.2 ارب پاؤنڈ تک پہنچ گیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 487 فیصد زیادہ ہے۔ ازبکستان کی متعدد بڑی کمپنیوں نے عالمی سرمایہ حاصل کرنے کے لیے لندن اسٹاک ایکسچینج میں بھی مالیاتی دستاویزات جاری کیں جن کی مجموعی مالیت تقریبا 4.4 ارب ڈالر رہی۔ ان کمپنیوں میں نیشنل بینک آف ازبکستان، از آٹو موٹرز اور نواوی کان کنی و دھات کاری کمپنی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ازبکستان کی اقتصادی تبدیلی کے پیچھے سب سے اہم کردار صدر شوکت مرزائیوف کی جانب سے 2016کے بعد شروع کی گئی اصلاحاتی عمل کا ہے۔ اس دوران حکومت نے کاروبار کے اندراج کے طریقہ کار کو آسان بنایا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کی منڈی کو آزاد کیا، ٹیکس کم کیے، ویزا کے قوانین کو سادہ بنایا اور ملک بھر میں خصوصی اقتصادی زون بھی قائم کیے۔ اس کے علاوہ سرکاری اداروں کی نجکاری، اجارہ داریوں کے خاتمے اور جدید ڈیجیٹل خدمات کے فروغ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں ملک میں 1 لاکھ 10 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔ اسی طرح ایک نیا ڈیجیٹل نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے کاروبار کے اندراج سے لے کر لائسنس اور دیگر اجازت نامے حاصل کرنے تک تمام مراحل آن لائن مکمل کیے جا سکتے ہیں اور حکومت کا ہدف ہے کہ کوئی بھی شخص صرف پندرہ منٹ میں اپنا کاروبار شروع کر سکے۔

ماہرین کے مطابق، ایک دہائی پہلے تک ازبکستان کی معیشت زیادہ تر زراعت اور بھاری صنعت پر منحصر تھی، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ اگرچہ ملک دنیا میں سونے اور یورینیم پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، تاہم اب خدمات کا شعبہ سب سے زیادہ روزگار فراہم کر رہا ہے اور مجموعی قومی پیداوار کا تقریبا نصف حصہ اسی سے حاصل ہوتا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یوریشیائی نقل و حمل کے اہم راستوں کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث ازبکستان نے خلیجی سرمایہ، چینی کاروباری مہارت اور یورپی ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں