‘بدلہ صرف آیت اللہ علی خامنہ ای تک محدود نہیں رہے گا’، ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا اپنے پہلے پیغام میں شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان

ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے عوامی آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ایران اپنے شہدا کے خون کا بدلہ لینے سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو یقین دلاتے ہیں کہ شہدا کے خون کا انتقام ضرور لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بدلہ صرف انقلاب کے عظیم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت تک محدود نہیں بلکہ دشمن کے ہاتھوں شہید ہونے والا قوم کا ہر فرد اس بدلے کے معاملے میں ایک علیحدہ حیثیت رکھتا ہے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر بند رکھا جانا چاہیے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ پہلا عوامی پیغام سرکاری ٹی وی کے ذریعے پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود امریکا کے تمام فوجی اڈے بند کیے جانے چاہئیں اور اگر ایسا نہ ہو تو انہیں بدستور نشانہ بنایا جائے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اتحاد اور گرمجوشی پر مبنی تعلقات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ایران خطے میں کسی قسم کی بالادستی یا نوآبادیاتی نظام قائم کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی اعلان کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران زخمی ہونے والے افراد کو مفت طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ان کے مطابق، موجودہ صورتحال سے متاثر ہونے والے افراد کو مالی معاوضہ دینے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

یاد رہے، مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ناپسندیدگی کااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے وہ قبول نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے نئے سپریم لیڈر کے انتخابی عمل میں شامل ہونا چاہیے۔ ایک اور بیان میں انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تقرری سے قبل مجھ سے منظوری نہ لی گئی تو نئے سپریم لیڈر زیادہ دیر نہیں رہیں گے۔

ان تمام دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود ایران کی مجلسِ خبرگان رہبر نے سابق (مرحوم) سپریم لیڈر کے فرزند مجتبیٰ خامنہ ای کو بطور سپریم لیڈر منتخب کیا اور آج ان کا آڈیو پیغام بھی جاری کیا گیا جس میں شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں