ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے ازبکستان اور افغانستان کے درمیان ‘ترجیحی تجارتی معاہدے’ کی توثیق سے متعلق ایک اہم صدارتی فرمان پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ اور معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
یہ معاہدہ 10 جون 2025 کو تاشقند انٹرنیشنل انوسٹمنٹ فورم کے موقع پر طے پایا تھا۔ اس وقت ازبکستان کے وزیر لذیز قدرتوف اور افغانستان کے وزیر نورالدین عزیزی نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے مطابق، ازبکستان کی سرمایہ کاری اور خارجہ تجارت کی وزارت اور کسٹمز کمیٹی کو اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مجاز ادارے مقرر کیا گیا ہے۔ ازبکستان کی وزارتِ خارجہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ کابل کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے کہ معاہدے کے نفاذ کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وزرا کی کابینہ اور متعلقہ سرکاری ادارے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے۔
اس معاہدے کے تحت چودہ مختلف اقسام کی اشیا پر عائد محصولات ختم کیے جائیں گے، جبکہ افغان زرعی مصنوعات کے لیے صحت اور نباتاتی معائنے کے اجازت ناموں کے اجرا کے عمل کو بھی آسان بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ازبکستان کے برآمد کنندگان کے لیے اضافی سہولیات اور معاونت کے اقدامات بھی متعارف کرائے جائیں گے۔
فروری 2026 میں ازبکستان کے نائب وزیر اعظم جمشید خودجائیف نے افغانستان کے وزیر نورالدین عزیزی کے ساتھ آن لائن مذاکرات کیے تھے۔ ان بات چیت میں معاہدے کو جلد نافذ کرنے، سرمایہ کاری کے مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد کابل میں دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان ایک مشترکہ کاروباری فورم منعقد کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دی جا سکے۔