”دشمن مرے تے خوشی نہ کریے، سجناں وی مرجانا“، کسی اسلامی ریاست کیخلاف جارحیت کی صورت میں مخصوص اسلامی ملکوں کا خاموش رہنا یا اندر سے خوش ہونا توسمجھ آتا ہے لیکن معتوب ومغضوب برادر اسلامی ریاست کیخلاف اسلام دشمنوں کا معاون و مددگار یا سہولت کار بن جانا اسلامی تعلیمات سے متصادم اور ناقابل فہم ہے۔ ”خلیجی“ ملکوں میں امریکہ کے آپریشنل فوجی اڈوں کی موجودگی سے اسلامی ملکوں کے درمیان ”خلیج“ پیدا ہونا فطری ہے۔ بدقسمتی سے ”عربوں“ نے ”اربوں“ کیلئے اسلامیت اور انسانیت کا درس فراموش کردیا۔ اقتدار جیسی بیوفا نعمت کیلئے کفار کو ”ڈھیل“ دیتے ہوئے اللہ ربّ العزت کی رحمت سے محروم ہونا منفعت بخش ”ڈیل“ نہیں ہوسکتی۔ اُدھر ایران کے عوام اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتے ہیں تواِدھر پاکستان سمیت متعدد اسلامی ملکوں میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ جوقرآن مجید کا قاری مسلمانوں کی شہادتوں پرغمزدہ، مضطرب یامشتعل نہیں ہوتا اسے زندوں میں شمار نہیں کیاجاسکتا۔غزہ بحران کے بعد تہران میں ہونیوالی شہادتوں پر دنیا بھر کے ”سنجیدہ“ مسلمان ”رنجیدہ“ ہیں تاہم مجموعی طورپرایران کی دشمن کیخلاف بینظیر استقامت اورمنظم مزاحمت نے مسلمانوں کو پرجوش کر دیا ہے،ایران ابتدائی ”گھنٹوں“ میں امریکہ اور اسرائیل کو ”گھٹنوں“ پرلے آیا تھا۔ اس نازک وقت میں جس نے اپنے صادق جذبوں کے ساتھ برادراسلامی ریاست ایران کے ساتھ اظہار ہمدردی اوراظہار یکجہتی نہ کیا وہ محشر میں اپنی مجرمانہ چشم پوشی اورمنافقانہ خاموشی کاحساب ضروردے گا۔دنیا بھر کے مشرک اورمرتدمتحد ہیں لیکن بدقسمتی سے عالم اسلام قیادت سے محروم اورمنتشرہے۔ایک طرف ایران کے سپریم لیڈر سیّدآیت اللہ خامنہ ای ؒ کی شہادت نے ایک”عہد“ کو”لہد“ میں اتاردیاہے دوسری طرف پاکستان کاسچاکپتان پچھلے دوسال سے زندان میں ہے جبکہ میں ”بوجھل“ دل سے کہتا ہوں برادراسلامی ریاست ترکیہ کے رجب طیب ا ردوگان ہماری نگاہوں سے”اوجھل“ ہیں۔ترکیہ خلافت عثمانیہ کامحورومرکز رہا ہے، وہ اپنی”پوزیشن“ واضح جبکہ طاغوت کیخلاف متحرک”اپوزیشن“ کاکردارادا کرے۔اللہ تعالیٰ کی”مشیت“کے آگے”معیشت“ کی کوئی حیثیت نہیں۔اس سیاسی یتیمی میں عالم اسلام کوعمران خان،رجب طیب اردوگان اورمہاتیرمحمد جیسی قوی اور قدآور قیادت کی اشد ضرورت ہے۔عمران خان اپنی”ہمشیر“ یااپنے”مشیر“ کی وساطت سے ایران کیخلاف امریکہ اوراسرائیل کی بدترین جارحیت کے بارے میں اپناموقف ضروردیں۔کپتان کی تواناآواز سے ایرانیوں کویقینا”رعنائی“ اور ”توانائی“ ملے گی۔
ایران کیخلاف بدترین جارحیت کے معاملے میں ڈونلڈٹرمپ کے ہموطن اس کے ہم خیال نہیں ہیں۔امریکہ کے ہزاروں شہریوں نے شاہراہوں پرڈونلڈٹرمپ کے جنون کیخلاف شدید احتجاج اوربیزاری کااظہارکیاہے۔امریکہ کے منتخب ایوان نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف مسلح مہم جوئی کومسترد کردیا۔نیٹو کے”متعدد“ اور”مقتدر“ ملکوں نے امریکہ کاہاتھ جھٹک دیا ہے،ایران کی مزاحمت کے نتیجہ میں نام نہادسپرپاور کو تنہائی،رسوائی اورپسپائی سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی دفاعی طاقت کوبہت انڈراسٹیمیٹ کیا اوراس کیخلاف جارحیت کیلئے انتہائی تعصب اور عجلت سے کام لیا۔امریکہ نے اسرائیل کی محبت میں خود کودوارب مسلمانوں کی نفرت کی آگ میں جھونک دیا ہے۔مزاحمت کارایران بظاہرتنہا ہے لیکن قدرت اورکائنات کے کئی غیبی اسباب اس کے ساتھ ہیں،نیلے آسمان سے ایران کیلئے مدد کواترتے صاف دیکھا جاسکتا ہے۔امریکہ اوراسرائیل کی بدترین جارحیت کو ریاست ِایران کی سا لمیت تک محدود نہیں کہاجاسکتا بلکہ ایرانیوں کی محبوب روحانی شخصیت اور سپریم لیڈرسیّد آیت اللہ خامنہ ای ؒ سمیت دفاعی قیادت کی شہادت سے برادراسلامی ریاست ایران کی قومی حمیت پرکاری ضرب لگائی گئی ہے ایرانیوں کے قومی ضمیر کوزخمی کیا گیا ہے۔کوئی غیورقوم اپنی مخلص و محبوب قیادت اور اجتماعی غیرت پرحملے کی صورت میں خاموش نہیں رہ سکتی۔جس قوم سے ان کاشفیق ومہربان باپ چھین لیاجائے وہاں کوئی خود کوزندہ نہیں سمجھتا،جہاں ہرکوئی شوق شہادت سے سرشارہووہاں کوئی موت سے نہیں ڈرتا۔جوانسان شہادت کیلئے بارگاہ الٰہی میں اپنادست دعا”دراز“کرتے ہوں ان میں سے کوئی بھی ”درازی“ عمر میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ایران کی روحانیت سے بھرپور مزاحمت نے امریکہ اوراسرائیل کے کئی خواب چکناچورکردیے ہیں۔ایران نے اپنی خوداعتمادی اورخودداری کے بل پر میدان مارلیا ہے۔اسلامی ریاست ایران کے معاملے میں اللہ ربّ العزت کے خاص”کرم“ سے امریکہ اوراسرائیل کا”بھرم“ جاتا رہا،نام نہاد سپرپاورکا”زعم“ اس کیلئے گہرا ”زخم“ بن گیاہے۔ایران کی”مدبر“ قیادت نے امریکہ اوراسرائیل کے”تکبر“ کا”تدبر“ سے مقابلہ کیااوراپنے زوربازو سے بازی پلٹ دی۔
اگرکمزور ملکوں میں ناپسندیدہ قیادت کی تبدیلی کیلئے امریکہ کی طرف سے ریاستی طاقت کے استعمال کانام نہاد اصول درست اور جائز مان لیاجائے توپھردنیا میں ہرطاقتور ریاست کمزور ملک میں کشت وخون کابازارگرم کردے گی،دنیا میں معقول قیادت کاقحط اور عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا۔ڈونلڈٹرمپ،نیتن یاہو اورنریندرمودی سے متشدد،انتہا پسند اور نامعقول حکمرانوں کے ہوتے ہوئے عالمی امن کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔امریکہ،اسرائیل اوربھارت کے انتہاپسندانہ،جاہلانہ اورجارحانہ اقدامات کودیکھتے ہوئے کوئی باشعور فرد ان تینوں اتحادی ملکوں کی اسلامیت اورانسانیت دشمنی سے انکار نہیں کرسکتا۔کسی بھی ریاست کااقتدارواختیاراپنے کٹھ پتلی کرداروں کے سپردکرنے کیلئے زراورزور سے رجیم چینج کرنا جمہوریت نہیں بدترین آمریت ہے۔عوام کی منتخب اورمحبوب قیادت کوسازش یاشورش سے ہٹانا یااسے موت کے گھاٹ اتارنا ہرگزقابل قبول نہیں۔2022ء میں منتخب وزیراعظم عمران خان کوزورزبردستی تخت اسلام آباد سے سبکدوش کرنے، جنوری2026ء میں بندوق کی نوک پر وینزویلا کے قصرصدارت سے نکولس مادوروکوبیدخل اوراہلیہ سمیت گرفتار کرنے،ماضی میں تخت بغداد سے صدام حسین کوہٹانے اورپھرنام نہادعدالتی فیصلے کے نام پرانہیں تختہ دارپرلٹکا تے ہوئے شہیدکرنے، لیبیاء کی مسنداقتدار سے کرنل معمرقذافی کانام ونشان مٹانے اورانہیں شہیدکرنے،شام کے حکمران بشارالاسد کوہٹانے کیلئے انتقام کانشانہ بنانے جبکہ تخت کابل پربراجمان طالبان قیادت کونیست ونابود کرنے کیلئے 9/11کی آڑ میں رجیم چینج آپریشن کیاگیا تھا، ان چھ میں سے پانچ اسلامی ملک ہیں۔امریکہ کے عاقبت نااندیشانہ اور آمرانہ اقدامات نے کئی ملین بیگناہ انسانوں کی جان لی ہے۔عراق،لیبیاء اورشام میں امریکہ کی جارحیت اورمداخلت کے بعد سے مقامی افراد کی حالت زارقابل رحم ہے۔تاہم امریکہ آج تک فرانس،برطانیہ، چائنہ،روس یا،نارتھ کوریا میں رجیم چینج آپریشن کی طرف نہیں گیا کیونکہ اس زورآور کازور صرف کمزور ملکوں پرچلتا ہے۔ ایرانیوں کے باوقاراورباکردار سپریم لیڈر سیّدآیت اللہ خامنہ ای ؒ کی دلخراش شہادت کے بعد بھی ڈونلڈٹرمپ کی ایران کے معاملے میں بیجا ہٹ دھرمی برقرار ہے۔موصوف کایہ کہنا،وہ سیّدآیت اللہ خامنہ ای شہید ؒ کے فرزندکوایران کانیا سپریم لیڈر نہیں مانتا اورمجھے قیادت کے انتخاب کیلئے مشاورت میں شریک کیاجائے،یہ انتہائی احمقانہ اوربچگانہ رویہ ہے۔ جس طرح ایران کے عوام کوامریکہ میں قیادت کے انتخاب میں رائے یاووٹ دینے کاحق حاصل نہیں ہے اس طرح امریکہ کاکوئی صدر یاعام شہری ایران کی سیاست میں مداخلت نہیں کرسکتا۔
ماضی میں مختلف اقوام کے درمیان حق و باطل یعنی نظریات کی بنیاد پر مختصر یاطویل تصادم ہوا کرتے تھے لیکن اب ملک مالیات یعنی معدنیات اور مفادات کی بنیاد پرآپس میں بھڑتے ہیں جس میں فوجی جوانوں سے زیادہ بیگناہ سویلین کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔ماضی میں شہری آبادی سے دورکسی میدان میں دودشمن ملک مدمقابل آتے تھے لیکن اب بدقسمتی سے شہروں کو میدان جنگ بنایااورنہتے شہریوں کاقتل عام کیاجاتا ہے۔ امریکہ اورنیٹو کے دامن پر جارحیت اورانسانیت دشمنی کے کئی سیاہ داغ ہیں۔ڈونلڈٹرمپ سمیت امریکہ کے متعدد منتخب صدوراوران کے حواری عالمی مجرم ہیں،ان کے ادوارمیں کئی بار انسانیت اوراخلاقیات کاجنازہ اٹھا ہے۔دنیا میں حکمران تو بہت ہیں لیکن سیاسی بصیرت اورلیاقت کی حامل قیادت کافقدان یابحران ہے۔اگردنیا میں قیادت کاقحط نہ ہوتا توکئی ملکوں کے درمیان تصادم روکاجاسکتا تھا۔مقتدرملکوں کے حکمران ممکنہ تصادم بارے اپنے اپنے تحفظات پرمبنی بیانات ضروردیتے ہیں لیکن اسے بروقت روکنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔یادرکھیں دنیا میں تنازعات پیداہوتے رہے ہیں اورآئندہ بھی ہوں گے تاہم ہرمتنازعہ”معاملے”کا”مکالمے“سے پائیدارحل تلاش کیاجاسکتا ہے۔نام نہاد سپرپاور سمیت کوئی ریاست اپنے کسی دشمن کیخلاف تاحیات جارحیت جاری نہیں رکھ سکتی۔محض نفرت یاپسندناپسند کی بنیاد پر عجلت میں ”وار“ شروع اوردشمن پرکاری”وار“کرنے کے بعد ڈائیلاگ اورڈیل کی دہائی دینے کی بجائے قبل ازوقت مذاکرات کرنا یااقوام متحدہ کادروازہ کھٹکھٹانا زیادہ بہتر ہے۔جو ملک دوملکوں کے درمیان تصادم شروع ہونے کے بعد بحیثیت ثالث متحرک ہوتے ہیں وہ بروقت اپنا مثبت کرداراداکیوں نہیں کرتے۔اقوام متحدہ کی ”عمارت“ پربھی ”امارت“ کاقبضہ ہے،اس نام نہاد ادارہ نے آج تک کسی طاقتور ملک کامحاسبہ نہیں کیا لیکن کمزوروناتواں ریاست کیخلاف راست اقدام ضرور کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی باگ ڈورامریکہ کے ہاتھوں میں آنے سے اس کی ”ساکھ“ پوری طرح”راکھ“ کاڈھیر بن گئی ہے۔اقوام متحدہ کومنصفانہ بنیادوں پر”فعال“ کئے بغیر اسے”زوال“ سے نہیں بچایاجاسکتا۔یہ دنیا اورانسانیت مخصوص انتہاپسندوں کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑی جاسکتی۔دنیا میں طاقت کاتوازن انسانیت کوتھرڈورلڈوار سے بچاسکتا ہے۔آپ کبھی ”داناؤں“کواپنی ”اناؤں“کااسیرہوتے ہوئے نہیں دیکھیں گے، اسرائیل کی ڈکٹیشن پرواشنگٹن جس بندگلی میں جاپہنچا ہے وہاں سے واپسی کیلئے اس کے پاس فوری یوٹرن واحدآپشن ہے۔نامعقول ڈونلڈٹرمپ کاطرز سیاست انسانیت،عالمی امن اورامریکہ جیسی ریاست کیلئے زہرقاتل ہے لہٰذاء اس”روگ“ یامایوس”لوگ“ رجیم چینج کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔