ملکی حدود میں ڈرون حملوں کے بعد آذربائیجان کا ایران سے سفارتی عملہ واپس بلانے کا اعلان

جمعہ کے روز آذربائیجان نے ایران سے سفارتی عملے کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدم اُس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا جب مبینہ طور پر ایرانی ڈرونز نے آذربائیجان کے سرحدی علاقے میں ایک ہوائی اڈے اور ایک اسکول کے قریب عمارت کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے بعد صدر الہام علئیف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داریاں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

جمعرات کے حملوں میں کم از کم چار ڈرونز شامل تھے جو مبینہ طور پر ایران سے آذربائیجان کے خودمختار علاقے نخجوان میں داخل ہوئے۔ دو مختلف مقامات پر ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے ایران پر ‘دہشت گردی’ کا الزام عائد کیا اور معافی کا مطالبہ کیا۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آذربائیجان کے اپنے ہم منصب کو ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یقین دلایا کہ ان حملوں کے پیچھے ایران کا کوئی کردار نہیں ہے۔ عباس عراقچی نے الزام اسرائیل پر عائدکرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کے اپنے برادر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔

آج کے دن آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بایراموف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان ایران میں موجود اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تہران میں سفارت خانے اور تبریز میں قونصل خانے سے عملے کو بلایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے کام جاری ہے اور گزشتہ روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ فون پر اس مسئلے پر سنجیدگی سے بات کی گئی، جس میں ایرانی فریق نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا۔

ایران طویل عرصے سے اس بات سے فکرمند ہے کہ اسرائیل، جو آذربائیجان کا قریبی حلیف اور اہم ہتھیاروں کا سپلائر ہے، آذربائیجان کی سرزمین کو حملے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ جون 2025 میں آذربائیجان نے تہران کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین کی ایسے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔

یاد رہے، جون 2025 میں بھی اسرائیل اور امریکا نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے جس کے بعد جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری رہے۔ ان مذاکرات کے دوران امریکا اور اسرائیل نے ایک بار پھر 28 فروری کو تہران پر حملے کیے جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم رہنما ہلاک ہوئے۔ ان حملوں کے بعد ایران نے اپنے قریبی خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر جوابی حملے کیے۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ اڈے امریکی سرزمین ہے اور ہمارے حملے امریکا کے خلاف ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں