مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش کے باعث پرائیوٹ ٹکٹ ایک لاکھ ڈالر سے تجاوز، کھلے فضائی اڈوں تک پہنچنے میں پھنسے مسافروں کو مشکلات کا سامنا

متحدہ عرب امارات میں ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کا مرکزی ہوائی اڈہ بند ہونے سے ہزاروں مسافر پھنس گئے ہیں۔ فوربز کے مطابق، جنگی صورتحال کے باعث فضائی آپریشن معطل ہونے پر بعض مسافر خطے سے نکلنے کے لیے نجی طیاروں پر ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر سے زائد کرایہ ادا کر رہے ہیں، جبکہ کچھ افراد کھلے ہوائی اڈوں تک پہنچنے کے لیے دس گھنٹے سے زیادہ طویل زمینی سفر بھی کر رہے ہیں۔

دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ، جو دنیا بھر کے لیے ایک اہم فضائی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، ہفتے سے بند ہے۔ اس دوران تقریبا تین سو پروازیں منسوخ کی گئیں اور ہزاروں مسافر مختلف ٹرمینلز پر انتظار میں رہ گئے۔ اگرچہ پیر کو محدود پیمانے پر آپریشن بحال ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، تاہم مکمل بحالی کے بارے میں کوئی حتمی وقت نہیں دیا گیا۔

نجی طیاروں کی بکنگ کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں کے مطابق، نجی پروازوں کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ خطے میں پرواز کرنے کے لیے تیار آپریٹرز کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ مزید یہ کہ بہت سے مقامی طیارے بند ہوائی اڈوں پر ہی کھڑے رہ گئے ہیں، جس کے باعث دیگر ممالک سے طیارے منگوانے پڑ رہے ہیں اور اس سے کرایوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، مسقط اور ریاض کے ہوائی اڈے متبادل مراکز بن گئے ہیں، اگرچہ ریاض جانے میں ویزا پابندیاں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ نجی سکیورٹی کمپنیاں مسافروں کو کھلے ہوائی اڈوں تک پہنچانے کے لیے اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں کے قافلے بھی فراہم کر رہی ہیں۔ دبئی سے مسقط تک سفر کا دورانیہ عام حالات میں تقریبا پانچ گھنٹے ہے، تاہم سرحدی گزرگاہ پر تاخیر کے باعث یہ وقت آٹھ سے نو گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ دبئی سے ریاض کا زمینی سفر تقریبا گیارہ گھنٹے کا بتایا جا رہا ہے۔

نجی پروازوں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مسقط سے استنبول تک ہلکے نجی طیارے کا کرایہ نوے ہزار ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جو معمول سے تقریبا دوگنا ہے، جبکہ بڑے طیاروں کے لیے یہی کرایہ ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ زیادہ تر انخلا پروازیں استنبول، لندن اور روم کی جانب جا رہی ہیں۔ ان مسافروں میں عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ عہدیدار اور کاروباری یا سیاحتی مقاصد کے لیے خطے میں موجود مالدار افراد شامل ہیں۔

خطے میں یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں نہ صرف فضائی سفر متاثر ہوا بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔ پیر کو ایئر لائنز کے حصص میں کمی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں تقریباً آٹھ فیصد اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل کی قیمت 79 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس سے ہوائی ایندھن مہنگا ہوگا اور سفر کی منسوخیاں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں