ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران ‘عمان کی ثالثی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔’ تاہم، علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں واضح طور پر لکھاکہ ‘ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔’
اس سے قبل امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دی اٹلانٹک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تہران کی جانب سے مذاکرات بحال کرنے کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق،’وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور میں بات کرنے پر راضی ہو گیا ہوں، اس لیے میں ان سے بات کروں گا۔ انھیں یہ کام جلد کرنا چاہیے تھا۔’
علی لاریجانی نے اپنی ایک اور پوسٹ میں کہا کہ ٹرمپ نے ‘امریکہ فرسٹ’ کو ‘اسرائیل فرسٹ’ میں بدل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنی ‘وہم پر مبنی خواہشات’ کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری میں دھکیل دیا ہے اور اب مزید امریکی جانی نقصان سے خوفزدہ ہیں۔لاریجانی نے کہا کہ ‘امریکا نے اپنے خود ساختہ نعرے’امریکہ فرسٹ’ کو ‘اسرائیل فرسٹ’ میں بدل دیا اور اسرائیل کے طاقت کے بھوکے عزائم کے لیے امریکی فوجیوں کو قربان کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کی قیمت امریکی فوجی اور ان کے خاندان ادا کریں گے، اور ایران اپنے دفاع کا سلسلہ جاری رکھے گا۔