ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز: پاکستان کا آسٹریلیا کو مسلسل شکست، سیریز اپنے نام کر لی

پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز اپنے نام کر لی ہے۔ ہفتے کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے دوسرے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 90 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ناقابل شکست 2-0 کی برتری حاصل کر لی۔

میچ میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی۔ انہوں نے 40 گیندوں پر 76 رنز بنائے، جس میں چار چھکے اور آٹھ چوکے شامل تھے۔ ان کے ساتھ عثمان خان نے بھی اہم کردار ادا کیا اور 36 گیندوں پر 53 رنز اسکور کیے۔ ان دونوں کی بدولت پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 198 رنز بنائے، جو آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میں سب سے بڑا اسکور ہے۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی اوورز میں صائم ایوب نے تیز 23 رنز بنائے اور سلمان آغا کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے 55 رنز کی شراکت قائم کی۔ پاور پلے میں پاکستان نے 72 رنز بنائے۔ بابر اعظم اس میچ میں صرف دو رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، تاہم اس کے بعد سلمان آغا اور عثمان خان نے اننگز کو سنبھالا اور رنز کی رفتار تیز رکھی۔ آخری پانچ اوورز میں پاکستان نے مزید 61 رنز جوڑے۔ شاداب خان نے بھی آخر میں 20 گیندوں پر 28 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

جواب میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 15.4 اوورز میں 108 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پاکستانی اسپنرز نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے تمام دس وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد نے 14 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ شاداب خان نے 26 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دیگر اسپنرز نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین نے سب سے زیادہ 35 رنز بنائے، لیکن وہ بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔

یہ فتح پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے بڑی جیت ہے، جس سے پہلے 2018 میں ابو ظہبی میں 66 رنز کی کامیابی سب سے بڑی جیت تھی۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے 2018 کے بعد پہلی بار آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی جیت لی۔
سیریز کا تیسرا اور آخری میچ اتوار کو بھی قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں