بلوچستان حملے: جوابی کارروائیوں میں ہلاک شدت پسندوں کی تعداد 67 ہو گئی، کلیئرنس آپریشن جاری

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں کو ناکام بناتے ہوئے کم از کم 67 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ مزید آپریشنز جاری ہیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق، یہ کارروائیاں ہفتے کی صبح سے شروع ہوئیں اور دن بھر مختلف علاقوں میں جاری رہیں۔

پاکستان ٹیلی وژن کا سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ بھارت سے منسلک شدت پسند تنظیم ‘فتنہ الہندستان’ نے بلوچستان میں بیک وقت 12 مختلف مقامات پر حملوں کی کوشش کی، تاہم بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔ پی ٹی وی نیوز کے مطابق جاری آپریشنز میں اب تک 67 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، گزشتہ دو دنوں کے دوران پنجگور اور ضلع ہرنائی کے علاقے شعبان میں 41 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ پورے صوبے میں مجموعی طور پر اب تک 108 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران 10 پولیس اہلکار اور سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے۔

سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ گوادر میں بھی ‘بھارتی پراکسی دہشت گردوں’ نے حملہ کر کے 11 شہریوں کو قتل کیا، جن میں پانچ مرد، تین خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس واقعے میں ملوث تمام دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہےاور ملحقہ علاقوں میں ممکنہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہیں۔

دریں اثنا، سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کوئٹہ، سبی اور چمن میں موبائل فون ڈیٹا سروس معطل کر دی گئی، تاہم کالنگ سروس فعال رہی۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ صرف گزشتہ دو دنوں میں صوبے کے مختلف علاقوں میں 70 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق، ہفتے کی صبح دہشت گردوں نے متعدد مقامات پر حملوں کی کوشش کی، لیکن بلوچستان پولیس اور فرنٹیئر کور نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے حملے ناکام بنا دیے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ حملے ریاست کے دہشت گردی کے خلاف عزم کو کمزور نہیں کر سکتے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ان حملوں کو دہشت گردوں کی ’’بوکھلاہٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز پہلے ہی ان کے مکمل خاتمے کے قریب تھیں۔ انہوں نے کہا کہ فورسز ہر مقام پر الرٹ تھیں اور کسی بھی جگہ اچانک صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کے مطابق 10 اہلکاروں کی شہادت کے باوجود دہشت گردوں کو بڑا نقصان پہنچایا گیا۔

عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم صورتحال سے باخبر ہیں اور انہوں نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں بم دھماکے کی جگہ کا دورہ بھی کیا، جہاں انہیں سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

بعد ازاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی کوئٹہ پہنچے، جہاں انہوں نے اعلیٰ سطح اجلاسوں میں شرکت کی اور پولیس لائنز میں شہدا کی نماز جنازہ میں بھی شامل ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز بہادر ہیں اور شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں