لاہور: بھاٹی گیٹ مین ہول واقعے کے کیس میں چار سرکاری اہلکاروں کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

بھاٹی گیٹ کے قریب زیر تعمیر داتا دربار توسیعی منصوبے کے مقام پر کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور اس کی کمسن بچی کے کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے ہفتے کے روز چار سرکاری اہلکاروں کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیاہے۔

بدھ کے روز بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار توسیعی منصوبے کے دوران ایک کھلے سیوریج مین ہول میں ایک خاتون اور اس کی 10 ماہ کی بچی گر گئیں تھیں۔ خاتون کی لاش اسی رات نکال لی گئی ، جبکہ بچی کی لاش اگلے روز یعنی جمعرات کو برآمد ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس نے غفلت کے الزام میں چار سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کیا۔

ہفتے کے روز پولیس نے گرفتار اہلکاروں کو ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس کے روبرو پیش کیا اور ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔ تاہم ملزمان کے وکیل نے پولیس کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔

دورانِ سماعت دفاعی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متاثرہ خاندان کو 1 کروڑ روپے کا چیک ادا کیا جا چکا ہے اور اس حوالے سے چیک کی فوٹو کاپی بھی پیش کی گئی۔ وکیل نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود ملزمان کا جسمانی ریمانڈ غیر ضروری ہے۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے پولیس کو چار دن کا جسمانی ریمانڈ دیا اور ہدایت کی کہ اس مدت کے دوران تفتیش مکمل کر کے ملزمان کو 3 فروری کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت کی جانب سے جاری حکم نامے میں تفتیشی افسر کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ واقعے میں واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) اور سول انتظامیہ کے ان افسران و اہلکاروں کے ممکنہ کردار اور غفلت کی بھی چھان بین کرے جو جائے وقوعہ پر جاری تعمیراتی منصوبے کی نگرانی کے ذمہ دار تھے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں