ازبکستان میں مائیگریشن دفاتر کو اسمارٹ سروس سینٹرز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

ازبکستان میں مائیگریشن اور شناختی دستاویزات سے متعلق نظام کو جدید بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ صدر شوکت مرزائیوف کی جانب سے 19 جنوری کو جاری کیے گئے صدارتی حکم نامے کے تحت وزارتِ داخلہ کے مائیگریشن یونٹس کو مرحلہ وار جدید اسمارٹ سروس سینٹرز میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو تیز، شفاف اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

اس منصوبے کے تحت مائیگریشن اور پرسنل آئیڈینٹیفکیشن ڈیپارٹمنٹ یکم مئی سے “اسمارٹ مائیگریشن اسٹیشنز” کا تجرباتی آغاز کرے گا۔ ان مراکز میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام اور خودکار سروس سہولیات موجود ہوں گی۔ ابتدائی طور پر یہ سہولت تاشقند، سمرقند اور فرغانہ کے ایک ایک ضلع یا شہر کے علاوہ جمہوریہ قرہ قلپاقستان میں فراہم کی جائے گی۔

حکم نامے کے مطابق یکم فروری سے وہ شہری جو پہلی مرتبہ قومی شناختی کارڈ حاصل کریں گے، انہیں مفت الیکٹرانک ڈیجیٹل دستخط دیے جائیں گے اور انہیں ای گورنمنٹ کے متحدہ شناختی نظام میں خودکار طور پر شامل کر لیا جائے گا، جس سے آن لائن سرکاری خدمات تک رسائی آسان ہو جائے گی۔

مزید یہ کہ یکم مئی سے الیکٹرانک ویزا پر ازبکستان آنے والے غیر ملکی اور بے وطن افراد کے ویزا کی مدت ایک بار مزید زیادہ سے زیادہ 30 دن تک بڑھائی جا سکے گی۔ تعلیمی اداروں اور کمپنیوں کو یہ سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ اپنے غیر ملکی طلبہ اور ملازمین کے ویزا اور رہائشی رجسٹریشن میں توسیع کروا سکیں، جس کے اخراجات متعلقہ ادارے برداشت کریں گے۔

وزارتِ داخلہ کو غیر ملکی شہریوں کے لیے ورک پرمٹ جاری کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یکم ستمبر سے طلبہ کے لیے ایک نیا نظام متعارف ہوگا جس کے تحت وہ ہاسٹل میں رہائش کے معاہدے کے ساتھ ہی اپنی رہائش کی رجسٹریشن بھی مکمل کر سکیں گے۔

حکومت کی جانب سے یکم اگست تک “پاسپورٹ ویزا” کے نام سے ایک موبائل ایپ بھی لانچ کی جائے گی جس کے ذریعے شہری مائیگریشن سے متعلق سرکاری خدمات، آن لائن قانونی رہنمائی اور کم رش والے دفاتر کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں گے۔ اسی دوران “ای روزیلیک” پلیٹ فارم کے ذریعے فیس آئی ڈی کے ذریعے دور سے شناخت کی تصدیق اور رضامندی دینے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں