تاشقند میں سات روزہ قیام کے بعد واپسی پرحال یہ ہے کہ کہنے کو تو میں وطن میں ہوں، پر دل وہیں کسی نے لے لیا ہو۔ شہزادی حسن بانو کے پہلے سوال ہی نے مجھے تاشقند میں پا بہ جولاں کر دیا: ”ایک بار دیکھا ہے، دوسری بار کی ہوس ہے“۔ جو جی چاہے متصور کرتے رہیے۔ مرتب و منظم سنگ و خشت تو مجھے لبھانے سے رہے۔ مسکراتے پھول، خوابیدہ غنچے، متں سم کلیاں، نکہت بہاری اور کھلکھلاتی چاندنی یہ سب ادھر اپنے ہاں بھی ملتے ہیں۔ سبزہ نہ بادل، شمیم گیسوئے آبدار نہ جوانی، بادہ ارغوانی نہ شرارتی کلیاں، چٹختے غنچے نہ لالہ و گل، سینہ و ساق نہ متناسب خطوط، شوق وصال نہ سوز فراق، رشک مہتاب نہ شراب و شباب، دل ہتھیایا بھی تو ایک 65 سالہ ٹیکسی ڈرائیور نے۔ توبہ ٹوٹی بھی تو ٹوٹے ہوئے پیمانے پہ۔ وہ اسی پر قانع رہتا تو کچھ غم نہ تھا،خوش بخت روح تک کا سوداگر نکلا، لٹیرا کہیں کا!
دیگر کے برعکس اس ٹیکسی نے مجھے عزرائیل علیہ السلام یاد دلا دیے۔ ڈرائیور کو کڑے تیور سے دیکھا تو قہقہہ لگا کر بولا:”قبل اس کے کہ تاشقند تمہیں مسحور کر دے، سوچا تمہیں پاکستان یاد کرا دوں“۔ شلوار قمیض میں ملبوس ہونے سے اسے اندازہ ہو گیا تھا۔ پُرجوش مصافحہ کر کے مناسب سی انگریزی میں بولا: ”میں عبداللہ ہوں, پاکستان جا چکا ہوں, ایک حج اور دو عمرے کر چکا ہوں۔ باقی پھر۔ اپنی سناؤ، کون ہو، کیوں آئے ہو؟“ دم رخصت اپنا نمبر اس شرط پر دیا کہ رابطہ کرو گے۔ جمعرات کو رابطہ کیا کہ کل اپنے شہر کا ایک بھرپور چکر تو لگوا دو۔ اور ہاں، پیارے جمعہ بھی پڑھوا دو۔ ساڑھے 12 کی بجائے 12 بجے آ کر اس نے افراتفری مچا دی۔ ”چلو جلدی چلو“۔ عرض کیا: ”صرف دو منٹ بیٹھ جاؤ“۔ تندی سے بولا: ”شاید تم نے جمعہ نہیں پڑھنا, ارے بھئی، مسجد میں جگہ نہیں ملے گی، گاڑی میں بیٹھو“ گاڑی چلانے لگا تو میں نے اسے روک کر کہا: ”بھائی، آپ کام پر ہو اور میں ٹھہرا سیاح! یہ بتاؤ کہ آج کے کام کا تمہارا محنتانہ کیا ہو گا“۔
خفا سا ہو کر بولا:”لگتا ہے تم جمعہ پڑھنے میں واقعی سنجیدہ نہیں ہو۔ بھائی، جمعہ پڑھیں گے، پھر تمہیں کبوتری کے انڈوں والا پلاؤ اور گھوڑے کا گوشت کھلاؤں گا۔ رہی میری اجرت، تو اس پر ہم اب کبھی بات نہیں کریں گے“۔ یہ کہہ کر اس نے گاڑی کو اڑن کھٹولا بنا ڈالا۔ ایک بڑی مسجد کے پاس گلی میں ایک گھر کے عین آگے گاڑی کھڑی کر کے بولا: فکر نہ کرو، یہ میرے بھائی کا گھر ہے، میں پہلے یہیں کہیں رہتا تھا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مسجد کی جانب دوڑنے لگا۔ ملک سے باہر میں صرف دو دفعہ ششدر ہوا، بلکہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔ ترکیہ کے شہر قونیہ میں جس پائے کی صفائی ستھرائی تھی، اسے دیکھ کر میں تو دہشت زدہ ہو کر رہ گیا تھا۔ آج میری دہشت زدگی کا دوسرا موقع تھا۔ صاحب، نمازی تھے کہ گلیوں، سڑکوں، بازاروں ہر طرف سے ابل رہے تھے۔ اپنی اپنی جاء نماز اٹھائے چاروں طرف سے مسجد کی جانب امڈتے اتنے نمازی، اتنے نمازی کہ ماضی میں شہر کی اکلوتی عید گاہ کو جاتے دیکھا کرتا تھا، پھر کبھی نہیں۔
عبداللہ مجھے مسجد کے اوپر چھوٹے ہال میں لے گیا۔ وہاں ہمارے سمیت صرف پانچ نمازی ذرا بابے تھے۔ ورنہ ہر طرف جوان سرخ خون چھلک رہا تھا۔ پاکستانی بھائیو! ازبک مسلمانوں کے بغیر داڑھی کے سرخ چہروں، پتلونوں اور مغربی لباس سے ان کے اسلام کی پیمائش کبھی نہ کرنا۔ بعد میں ایک پاکستانی ملا جو وہاں تین ہفتے سے سیاحت پر تھا۔ بولا: ”جناب اسلام تو ہمارے ملک میں ہے۔ یہ لوگ تو بس نام کے مسلمان ہیں“۔ پوچھا یہاں کبھی جمعہ پڑھا۔ بولا جی، سفر میں جمعہ معاف ہوتا ہے۔ اچھا یہ بتاؤ، مسجد میں نمازیں کتنی پڑھی ہیں۔ بولا جی کمرے میں کبھی پڑھ لیتا ہوں۔ عبداللہ سے پوچھا: ”تاشقند میں ایسی کتنی مساجد ہوں گی“؟ بولا: ”صحیح تعداد تو معلوم نہیں لیکن 30 سے کم و بیش ہو سکتی ہیں، کچھ زیادہ ہی ہوں گی اور سبھی میں جمعہ یونہی ہوتا ہے“ عرض کیا: ”میں نے امام صاحب سے لازماً ملنا ہے“ متعجب ہو کر بولا: ”یہ تو ممکن نہیں“طویل جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ امام صاحب سے ملنے کو وقت لینا پڑتا ہے، جو میں سمجھا وہ یہ تھا کہ یہاں امام صاحب ہمارے ڈپٹی کمشنر جیسے عہدے دار ہیں۔
میں کچھ روہانسا سا ہو کر وہیں بیٹھ گیا۔ بولا: ”کیا مسئلہ ہے“۔ کھڑے ہو کر عرض کیا: “جلدی نکلو یہاں سے”راہ روک کر بولا:“بتاؤ, ہوا کیا؟”عرض کیا:“دل پر گہرا سا زخم لگا ہوا ہے, اسے مت کریدو، کچھ کہنے سننے کا یارا مجھ میں نہیں ہے، چلو جلدی سے”ضد طول پکڑ گئی تو عرض کیا:“عبداللہ سنو، 1917ء میں تمام ترکستانی ممالک سوویت انقلاب کی لپیٹ میں آئے تو لاکھوں مہاجرین میں سے ایک لٹا پٹا مہاجر قاری محمد یوسف میرے قصبے کہوٹہ میں آبسا تھا۔ اس نے عین تمہارے ترکستانی نمونے پر ننھی سی لیکن پھولوں اور بیلوں بھری مسجد ہمارے چنبہ محلہ میں بنائی، میں ناظرہ قرآن انہی قاری یوسف صاحب سے پڑھا ہوں۔ تمہارے مولانا کو قاری یوسف سمجھ کر ان کی دست بوسی کرنا چاہتا تھا لیکن چلو خیر۔۔۔نکلو یہاں سے! میں تو ڈبڈباتی آنکھیں لیے ضبط کی ناکام کوشش کر رہا تھا، عبداللہ یہ کچھ سن کر دھاڑیں مارنے لگا۔ روتے روتے وہ میرا ہاتھ پکڑے امام صاحب کی طرف دوڑ پڑا۔
امام صاحب بالآخر ذرا دیر کے لئے راضی ہو ہی گئے، ماں نے بچپن میں مجھے یہ ایک سند عطا کی تھی:”اسے کھڑے ہونے کی جگہ دے دو تو بیٹھنے کی جگہ یہ خود بنا لیتا ہے“ بلند جگہ پر کھڑے ہو کر 15- 20 نمازیوں سے کہا کہ کوئی انگریزی دان ہو تو سامنے آئے، کوئی نہ نکلا۔ لیکن دور کھڑا ایک شخص سن کر آگیا۔اس کے توسط سے مولانا اور نمازیوں کو قاری یوسف کا ماجرہ سنایا۔ مولانا نے مجھے گلے لگا لیا۔ لوگ باہر سے پاکستان آتے وقت تھیلے بھر کر تحائف لاتے ہیں۔ میں تحائف بھرے تھیلے لے کر ملک سے باہر جاتا ہوں۔ مولانا کی خدمت میں سوات کا اپنا آزمودہ لذیذ شہد یہ سوچ کر پیش کیا کہ قرآن پڑھانے والے اپنے مرحوم استاد قاری یوسف کو پیش کر رہا ہوں۔ واپسی کے لیے عبداللہ کو تلاش کرنا چاہا تو دیکھا کہ دور کونے میں اکیلے کھڑا رو رہا تھا۔
نہ بہ جادہ قرارش نہ بہ منزل مقامش
دل من مسافر من کہ خداش یار بادہ
(میرے دل پر اللہ ہی رحم کرے تو کرے کہ جسے نہ تو سوئے منزل قرار ملتا ہے اور نہ منزل پر پہنچ کر وہ پڑاؤ کرتا ہے)