گل رعنا اور پہاڑ کا خزانہ

ازبکستان کی وادی فرغانہ کے پہاڑوں کے دامن میں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ گاؤں کے لوگ محنتی اور سادہ دل تھے، لیکن اکثر قسمت کی سختیوں کی شکایت کرتے تھے۔ انہی میں ایک زرکش (ریشمی کپڑا بننے والا) رہتا تھا جس کی بیٹی “گل رعنا” نہ صرف خوبصورت بلکہ ذہین اور نڈر بھی تھی۔

ایک رات گل رعنا نے خواب دیکھا کہ پہاڑ کے اندر ایک سنہری دروازہ ہے جس کے پیچھے دولت اور خوشحالی کا خزانہ چھپا ہے۔ خواب میں ایک بوڑھی عورت نے کہا:“یہ خزانہ صرف اس کو ملے گا جو سچائی پر قائم رہے اور لالچ کو چھوڑ دے۔”

گاؤں کے چند لالچی لوگ خواب کی خبر سنتے ہی پہاڑ کی طرف چل پڑے۔ انہوں نے زور آزمائی کی، مگر دروازہ کھل نہ سکا۔ گل رعنا نے ہمت کر کے دعا مانگی اور دروازے کے قریب جا کر کہا:

“میں خزانے کی طلبگار نہیں، بس اپنے گاؤں کے لیے خوشحالی چاہتی ہوں۔”
اتنا کہنا تھا کہ دروازہ خود بخود کھل گیا اور اندر سے ایک چشمہ بہنے لگا۔

چشمے کے ساتھ ایک آواز گونجی:

“یہ پانی تمہارے گاؤں کو سیراب کرے گا، مگر یاد رکھو! اگر تم نے اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا تو یہ خشک ہو جائے گا۔”

گل رعنا نے وعدہ کیا کہ وہ اس پانی کو سب کے لیے بانٹے گی۔ گاؤں والوں نے شکرانے کے طور پر اس چشمے کے قریب ایک چھوٹا سا باغ لگایا جو آج تک “گل رعنا کا باغ” کہلاتا ہے۔

یہ داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچائی اور ایثار انسان کو وہ دولت بخشتے ہیں جو سونے چاندی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ازبک لوک ادب میں ایسی کہانیاں عام ہیں جن میں کردار آزمائش سے گزرتے ہیں اور آخر کار ایمانداری و قربانی کے ذریعے کامیاب ہوتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں