ٹرمپ کا نیا اعلان: دواؤں، ٹرکوں اور کچن کیبنٹس پر بھاری ٹیکس لاگو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ یکم اکتوبر سے امریکہ میں درآمد ہونے والی کئی مصنوعات پر نئے سخت ٹیکسز لگائے جائیں گے۔ ان میں خاص طور پر برانڈڈ اور پیٹنٹ یافتہ دوائیوں، بھاری قسم کے ٹرکوں اور کچن و باتھ روم کے کابینیٹس شامل ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ برانڈ والی دوائیوں پر 100 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا، بشرطیکہ متعلقہ کمپنی امریکہ میں اپنی فیکٹری نہ بنائے۔ بھاری ٹرکوں پر 25 فیصد اور کچن اور باتھ روم کے کابینیٹس پر 50 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ یہ تمام اقدامات امریکہ کی مقامی صنعتوں کی حفاظت کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ بیرون ملک سے اشیاء کی زیادہ مقدار کی درآمد کو روکا جا سکے۔

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ دیگر ممالک کی طرف سے یہ مصنوعات امریکہ میں “بہت زیادہ مقدار میں فلڈ” ہو رہی ہیں، جس سے ملکی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس لیے امریکی مینوفیکچررز کو تحفظ دینے کے لیے یہ سخت ٹیکسز لاگو کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ کاروباری حلقے اور امریکی صنعتوں نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا تھا کہ مزید ٹیکسز عائد نہ کیے جائیں کیونکہ اس سے پیداوار کی لاگت بڑھ جائے گی، لیکن ٹرمپ نے اس اعلان کے ذریعے اپنی صنعتی پالیسی کو مضبوط کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ دوائیوں پر لگائے جانے والے ٹیکسز کے حوالے سے یہ اتنا بڑا قدم نہیں جتنا بظاہر نظر آتا ہے کیونکہ جینیرک دوائیوں اور امریکہ میں فیکٹری بنانے والی کمپنیوں کو اس سے چھوٹ دی جائے گی۔ کئی بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں پہلے ہی امریکہ میں اپنی پیداوار چلا رہی ہیں یا وہاں سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

یورپی یونین اور برطانیہ کی فارما کمپنیوں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں خطوں نے امریکہ سے بات چیت شروع کر دی ہے تاکہ مریضوں اور صارفین کو اس کے نقصان سے بچایا جا سکے۔

ٹرمپ نے بھاری ٹرکوں پر لگنے والے 25 فیصد ٹیکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیکس امریکی مینوفیکچررز کو غیر منصفانہ بیرونی مقابلے سے بچائے گا اور امریکی کمپنیوں جیسے پیٹر بِلٹ اور میک ٹرک کو فروغ دے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں