ابوظہبی کے سر بنی یاس جزیرے پر حال ہی میں ایک اہم تاریخی دریافت ہوئی ہے جس نے خلیجی علاقے کی قدیم تاریخ پر نئی روشنی ڈالی ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کو اس مقام پر ایک تقریباً 1400 سال پرانی مسیحی صلیب ملی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے میں ماضی میں مسیحی برادریاں آباد تھیں۔
یہ صلیب جنوری 2025 میں شروع ہونے والی کھدائی کے دوران سامنے آئی، جو کہ تقریباً تین دہائیوں کے وقفے کے بعد جزیرے پر کی جانے والی پہلی بڑی کھدائی تھی۔
یہ صلیب پلاسٹر یعنی گچ سے بنی ہوئی ہے اور اس کا سائز تقریباً 27 سینٹی میٹر لمبا، 17 سینٹی میٹر چوڑا اور 2 سینٹی میٹر موٹا ہے۔ یہ ایک ایسے مقام سے ملی ہے جو قدیم خانقاہ کے شمالی حصے میں واقع ہے۔
اس جگہ پر ایسے صحن نما مکانات تھے جہاں امکان ہے کہ راہب یا دیگر مذہبی شخصیات رہائش پذیر ہوتی تھیں اور روحانی عبادت میں مصروف رہتی تھیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صلیب ساتویں یا آٹھویں صدی کی ہو سکتی ہے، یعنی اسلام کے ابتدائی دور کی۔ یہ دریافت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ خلیج کے اس حصے میں اُس زمانے میں مشرقی مسیحیت سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیاں موجود تھیں۔
ان کمیونٹیوں نے خانقاہی طرزِ زندگی، عبادت، اور مذہبی رسومات کو اپنایا ہوا تھا، جو اس دور کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔
یہ دریافت نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتی ہے بلکہ تاریخی اعتبار سے بھی بہت قیمتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب دنیا میں مختلف مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہتے تھے اور ایک دوسرے کے مذہبی وجود کو تسلیم کرتے تھے۔
یہ صلیب دراصل ماضی کی ایک جھلک ہے، جو ہمیں اُس وقت کے سماجی، مذہبی اور روحانی ماحول کا پتہ دیتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا خطہ صدیوں سے مختلف تہذیبوں اور عقائد کا مرکز رہا ہے۔
یہ دریافت یہ احساس دلاتی ہے کہ ماضی کے آثار صرف پتھروں میں چھپے راز نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہماری تہذیبی شناخت، مذہبی رواداری، اور تاریخی ورثے کی علامت ہوتے ہیں۔ سر بنی یاس جزیرے پر ملی یہ صلیب اسی ورثے کی ایک خوبصورت یادگار ہے، جو آج بھی ہمیں ماضی کے روحانی رنگوں سے جوڑتی ہے۔