پاکستانی وفد رواں سال ستمبر میں ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ میں شامل ہوگا، جو 40 ممالک کی امدادی کشتیوں کا اتحاد ہے اور جس کا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی توڑ کر غزہ کے عوام تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانا ہے۔ اس وفد میں پاکستانی کارکنان، ڈاکٹرز اور سماجی کارکن شامل ہوں گے۔
یہ مشن 30 اگست کو اسپین سے روانہ ہوگا جبکہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کی امدادی کشتیاں 4 ستمبر کو فلوٹیلا میں شامل ہوں گی، جس کے بعد یہ قافلہ غزہ کی جانب روانہ ہوگا۔ منتظمین کے مطابق یہ غزہ کے لیے اب تک کا سب سے بڑا امدادی فلوٹیلا ہے۔
پاکستان کی شمولیت کا باضابطہ اعلان 15 اگست کو ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ پاکستانی وفد میں ڈاکٹر اسامہ ریاض، کارکن اسماعیل خان اور اسلامی اسکالر سید ازیر نظامی شامل ہیں۔
اس مشن کے حوالے سے عالمی کارکنان اور شخصیات، جن میں گریٹا تھنبرگ، تھیو یاسیمین آکار اور تھییاگو اویلا شامل ہیں، دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ یا تو براہِ راست اس مشن میں شامل ہوں یا غزہ میں جاری انسانی بحران کے بارے میں آگاہی بڑھائیں۔
اس سے قبل 26 جولائی کو اسرائیلی بحریہ نے ’’ہندالہ‘‘ نامی امدادی جہاز کو غزہ سے تقریباً 70 ناٹیکل میل دور روک لیا تھا اور کارکنان کو ملک بدر کر دیا تھا۔ 9 جون کو بھی اسرائیلی افواج نے ایک اور امدادی کشتی ’’میڈلین‘‘ کو بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے قریب روکا اور اس پر موجود 12 غیرملکی کارکنان کو حراست میں لے کر بعد میں اس شرط پر رہا کیا کہ وہ دوبارہ نہ لوٹیں۔ ان میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور فرانسیسی رکن یورپی پارلیمنٹ ریمہ حسن بھی شامل تھیں۔
اسی طرح 2 مئی کو ’’ایم وی کانشینس‘‘ نامی امدادی جہاز، جو فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے تحت غزہ کے لیے امداد لے جا رہا تھا، مالٹا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ڈرون حملے کا نشانہ بنا، جس سے جہاز میں آگ لگ گئی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔