امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان براہِ راست ملاقات کے انتظامات کر رہے ہیں تاکہ روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے راستہ نکالا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ طویل ملاقات کی جس کے بعد سب نے احتیاط کے ساتھ امید ظاہر کی کہ امن کی کوششوں میں پیش رفت ممکن ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق اس ملاقات کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ امریکا نے یوکرین کے لیے سکیورٹی گارنٹی پر کام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے صدر پیوٹن کو فون کیا اور دونوں رہنماؤں کی براہِ راست ملاقات پر بات چیت کی۔ اس موقع پر برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ اگر روس نے مذاکرات کی سنجیدگی نہ دکھائی تو وہ امریکا سے مزید اقدامات کی درخواست کریں گے۔ نیٹو سیکرٹری جنرل مارک رُٹے کے مطابق اگر روس تعاون نہ کرے تو امریکا اور یورپ ماسکو پر مزید پابندیاں عائد کریں گے۔
زیلنسکی نے اس بار اپنے موقف میں نرمی دکھائی اور کہا کہ بغیر کسی شرط کے ملاقات ضروری ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کا راستہ تلاش کیا جا سکے۔
یورپی رہنماؤں نے کہا کہ فوری جنگ بندی ایک حل ہو سکتی ہے، تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حتمی امن معاہدہ بھی ’’ممکن‘‘ ہے۔
روس کی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ نیٹو کی کسی بھی قسم کی امن فوج یوکرین میں بھیجنے کی کوشش مزید کشیدگی پیدا کرے گی۔