زیادہ سونا کمر درد کا سبب بنتا ہے: میڈیکل رپورٹ

ریڑھ کی ہڈی کے امراض کے ماہر نے وضاحت کی ہے کہ “دن کے وقت لوگ حرکت کرتے ہیں اور اپنی پوزیشن بدلتے رہتے ہیں تاکہ درد میں کمی آئے، لیکن نیند کے دوران پوزیشن کی تبدیلی بہت کم ہوتی ہے، جو کمر درد کا باعث بنتی ہے”

طب اور نیند کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ زیادہ تر بالغ افراد کو جسم اور دماغ کی بحالی کے لیے روزانہ سات سے نو گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے …. لیکن سوال یہ ہے کہ اگر نیند اس حد سے بڑھ جائے تو کیا نتیجہ بہتر ہوگا یا ابتر؟ کیا زیادہ سونے سے مزید آرام ملے گا یا نہیں؟

صحت اور طبی تحقیق کے حوالے سے معروف ویب سائٹ “ہیلتھ ڈائجسٹ” کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ضرورت سے زیادہ وقت بستر پر گزارنا صحت پر “غیر متوقع اثر” ڈال سکتا ہے۔ خاص طور پر کمر درد کی شکل میں، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ سونا ہمیشہ سکون نہیں دیتا بلکہ مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

ریڑھ کی ہڈی کے امراض کے ماہر ڈاکٹر رابرٹ گریفن کے مطابق دن کے وقت لوگ حرکت کرتے رہتے ہیں اور پوزیشن بدلتے ہیں، جو کمر درد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن نیند کے دوران یہ تبدیلیاں کم ہوتی ہیں، جس سے مسلسل کم حرکت رہنے کے باعث کمر میں درد پیدا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ طویل نیند کے بعد کمر درد کی ایک اور وجہ ناقص گدّا بھی ہو سکتا ہے، لیکن اگر آپ نیا اور معیاری گدّا بھی استعمال کر رہے ہوں پھر بھی ریڑھ کی ہڈی کو مناسب سہارا نہ ملنے پر جاگنے کے بعد درد محسوس ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مثالی گدّا وہ ہے جو جسم کو سہارا دے اور ریڑھ کی ہڈی کے قدرتی خم اور جسمانی ساخت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، تاکہ سونے کے بعد کمر کی پوزیشن نارمل اور بے درد رہے۔

سال 2021 میں تحقیقی جریدے “جرنل آف آرتھوپیڈک سرجری اینڈ ٹراماٹولوجی” میں شائع ایک تحقیق سے ظاہر ہوا کہ درمیانی سختی والا گدّا کمر درد کے امکانات کم کرنے کے لیے بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے گدّے کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ نیند میں خلل کو کم کرتا ہے، جس سے نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے اور لمبے عرصے تک سونے کی ضرورت بھی گھٹ جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں