خواجہ آصف کے استعفے کی افواہیں بے بنیاد قرار، وفاقی وزیرِ دفاع نے تردید کر دی

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعرات کو استعفیٰ دینے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر جھوٹ قرار دیا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے ایک صحافی زبیر علی خان کی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی تھریڈ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خواجہ آصف نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اسکرین شاٹ کو “فیک” قرار دیتے ہوئے خواجہ آصف نے لکھا، “معذرت کے ساتھ، اس محترم نے حقیقت نہیں بلکہ اپنی خواہشات کا اظہار کیا ہے۔”

زبیر خان نے دعویٰ کیا کہ خواجہ آصف نے سیالکوٹ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو (اے ڈی سی آر) کی چند روز قبل مبینہ مالی بدعنوانی کے الزام میں گرفتاری پر احتجاجاً استعفیٰ دیا۔ ان کے مطابق، خواجہ آصف نے وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ کو جمع کرائے گئے استعفے میں کہا کہ یا تو اے ڈی سی آر آر کو رہا کیا جائے یا ان کا استعفیٰ منظور کیا جائے۔

خان نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس گرفتاری میں ایک بااثر شخصیت ملوث ہے جو مبینہ طور پر وزیر دفاع کے ماتحت ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملاقات کے بعد خواجہ آصف کسی سے رابطے میں نہیں رہے، ان کے تمام نمبرز بند ہیں اور وہ کسی نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں۔

بعد ازاں خان نے ایک اپڈیٹ میں مزید دعویٰ کیا کہ خواجہ آصف اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے درمیان مری میں ملاقات ہوئی، جس میں نواز شریف نے انہیں استعفیٰ واپس لینے کا مشورہ دیا اور آصف نے اس سے اتفاق کیا۔

افواہوں کا آغاز اس وقت ہوا جب خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ پاکستان کی بیوروکریسی کا ایک بڑا حصہ پرتگال میں پناہ اور شہریت حاصل کر رہا ہے اور اربوں روپے وہاں منتقل کر رہا ہے۔

انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ “ہماری عزیز سرزمین کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی نے پرتگال میں جائیداد حاصل کرلی ہے اور اب شہریت کے لیے تیار ہو رہی ہے۔” ان کے مطابق، یہ بااثر بیوروکریٹس ہیں جو اربوں روپے ہڑپنے کے بعد آرام دہ ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔

سیاستدانوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ “جھوٹے الزاموں پر شور مچاتے ہیں، نہ ان کے پلاٹ ہوتے ہیں، نہ غیر ملکی شہریت، کیونکہ انہیں الیکشن لڑنے کی مجبوری ہوتی ہے”۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ “بیوروکریسی اور دیگر اشرافیہ کو پرتگال میں پناہ دلانے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی شخصیت مسٹر وِرک ہیں”۔

اپنا تبصرہ لکھیں