ارجُت، جو بلند و بالا پہاڑوں کی آغوش میں بسی ایک دلکش وادی ہے، ازبکستان کے اُن خوبصورت ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے جو ہر دور میں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہے۔ یہ محنت کش تاجروں، ہنر مند کاریگروں، باغبانی کے ماہرین اور مہمان نواز و فیاض لوگوں کی سرزمین ہے۔یہاں کے نوجوان صرف دستکاری اور تجارت میں ہی نہیں، بلکہ کھیلوں میں بھی عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ ارجُت کے کھلاڑی قومی، براعظمی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں حصہ لے کر ازبکستان کا پرچم سربلند کر رہے ہیں۔
آج کے دن ارجُت ضلع میں پانچ سو ستائیس کھیلوں کی سہولیات موجود ہیں جن میں آٹھ اسٹیڈیم، ایک سو چودہ اسپورٹس ہال، ایک انڈور سوئمنگ پول، ایک سو پندرہ باسکٹ بال، ایک سو تریسٹھ والی بال، چھیالیس ہینڈ بال، انتالیس فٹبال، چوبیس منی فٹبال اور چوالیس مصنوعی گھاس والے فٹبال میدان شامل ہیں، جن میں سے بیشتر مقامی تاجروں کی مدد سے قائم کیے گئے ہیں۔ ان اداروں میں چار سو سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ، ایک سو کے قریب خصوصی تربیت یافتہ ماہرین اور انسٹھ خواتین معلمات خدمات انجام دے رہی ہیں۔
بچوں اور نوجوانوں کے اسپورٹس اسکول نمبر ایک اور دو میں تیئیس مختلف کھیلوں کی تربیت دی جا رہی ہے، جس میں خوش آئند بات یہ ہے کہ ان میں بڑی تعداد بچیوں کی ہے۔ صدر مملکت کے خصوصی فرمان کے تحت آٹھ کلومیٹر طویل صحت بخش راہداریاں، سائیکلنگ لینز، منی فٹبال، بیڈمنٹن، ورک آؤٹ اور اسٹریٹ بال کے میدانوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔ارجُت کے کھلاڑیوں نے نہ صرف علاقائی اور قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی میدانوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان میں وہ نابینا لڑکی بھی شامل ہے جس نے پیرا جُوڈو کے عالمی مقابلے میں طلائی تمغہ جیت کر ازبکستان کی تاریخ رقم کی۔ الجون امرییوا، جو سترہ مئی انیس سو ننانوے کو ارجت میں پیدا ہوئیں، دو ہزار تئیس سے ازبک قومی پیراجوڈو ٹیم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ہوانگژو دو ہزار بائیس پیرا ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ بعد ازاں جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ میں منعقدہ عالمی گرینڈ پرکس مقابلے میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ عالمی چیمپئن شپ میں انہوں نے چونسٹھ کلوگرام وزن کی J1 کیٹیگری میں تمام مقابلے جیت کر طلائی تمغہ حاصل کیا اور یوں عالمی سطح پر ورلڈ چیمپئن شپ میں پوڈیم پر پہنچنے والی پہلی ازبک نابینا کھلاڑی بن گئیں۔

اسی طرح شطرنج کی ایک اور ذہین لڑکی، رقیہ اولیمووا، جو پچیس فروری دو ہزار گیارہ کو ارجت میں پیدا ہوئیں، تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ہونے والی اٹھارہویں ایشین اسکول چیس چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ حاصل کر کے ملک کی اسپورٹس ہسٹری میں ایک روشن باب کا اضافہ کر گئیں۔ انہوں نے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہونے والی عالمی جونیئر بلیٹز و ریپیڈ چیمپئن شپ میں بھی چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ارجت کے ایک اور قابلِ فخر سپوت نگماتوف اُتکرجون اسمتیلو اوغلو، جن کی ولادت دس ستمبر انیس سو نوے کو ہوئی، پیرا جُوڈو کے میدان میں بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ دو ہزار سولہ کے ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے پیرالمپک مقابلوں میں طلائی تمغہ جیت چکے ہیں، جہاں انہوں نے آذربائیجان کے بائرم مصطفائیف کو شکست دی۔ اس کامیابی پر صدرِ مملکت نے انہیں “ازبکستان کا فخر” کے اعزاز سے نوازا۔ دو ہزار اٹھارہ میں جکارتہ پیرالمپکس میں انہوں نے قازقستان کے عظمت تورمبیٹوف کو ہرا کر ایک اور طلائی تمغہ جیتا۔ اسی ٹورنامنٹ میں انہوں نے قومی ٹیم کے رکن کی حیثیت سے کانسی کا تمغہ بھی حاصل کیا۔ اس کے بعد لزبن، پرتگال میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں بھی اپنے وزن کی کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ جیت کر اپنی فتوحات کی فہرست کو مزید بلند کیا۔
ارجت کی ایک اور روشن ستارہ، شطرنج کی اُبھرتی ہوئی کھلاڑی اوزودہ شہزادووا ہے، جنہوں نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنے جوہر دکھائے ہیں۔ سترہ نومبر دو ہزار چھ کو ضلع کے کرا بولاک گاؤں میں پیدا ہونے والی اوزودہ نے اسکول نمبر 46 سے امتیازی نمبروں کے ساتھ تعلیم مکمل کی۔ وہ فی الحال ازبک-فن سامر قند پیڈاگوجیکل انسٹیٹیوٹ میں فزیکل کلچر کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جہاں انہیں صدر مملکت کی خصوصی رعایت کے تحت بغیر داخلہ امتحان کے داخلہ دیا گیا۔ انہوں نے دو ہزار تئیس میں ازبکستان کی قومی شطرنج چیمپئن شپ جیتی، اسی سال بین الاقوامی “ویمن” ٹورنامنٹ میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اسپین میں ہونے والے “سن وے” ٹورنامنٹ کی فتح نے ان کی شہرت کو چار چاند لگا دیے۔ دو ہزار چوبیس میں وہ دوبارہ قومی چیمپئن بنیں۔ ان کی سب سے بڑی بین الاقوامی کامیابی دو ہزار تئیس میں کرغیزستان کے شہر ایسیک کول میں ہونے والی “ویسٹرن ایشین یوتھ بلیٹز چیس چیمپئن شپ” میں سامنے آئی جہاں انہوں نے دس ممالک کے دو سو اکسٹھ شرکاء میں سے اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کے زمرے میں طلائی تمغہ جیت کر نہ صرف ارجت بلکہ ازبکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔یہ سب نوجوان آج کے ارجت کی نہیں بلکہ کل کے ازبکستان کی تصویر ہیں – ایک ایسا وطن جو اپنی نسلِ نو کو علم، ہنر، عزت اور مواقع سے مالامال کر رہا ہے۔ یہ کامیابیاں اس بات کا اعلان ہیں کہ جب قومیں اپنی نوجوان نسل پر بھروسہ کرتی ہیں، تب وہ نسل دنیا کے میدانوں میں اپنے وطن کا وقار بلند کرتی ہے۔