چیئرمین پریس کونسل آف پاکستان ارشد خان جدون نے تاشقند اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہےکہ پریس کونسل جعلی خبروں کے خلاف سرگرم اقدامات کر رہی ہے تاہم مزید کام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے پہلگام حملے کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کا حوالہ دیا، جس میں پاکستان کے میڈیا اور صحافیوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے پریس کونسل مختلف جامعات اور گورنرز کے ساتھ سیمینارز اور ملاقاتیں کر رہی ہے۔
پرنٹ میڈیا کے زوال کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ اب بھی معلومات کا مستند ذریعہ ہے، جبکہ سوشل میڈیا وقتی ہے اور یہاں ہر شخص کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندیوں کے باعث پرنٹ میڈیا کی مضبوط واپسی ممکن ہے۔
ارشد جدون نے میڈیا کے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ پریس کونسل کی انٹرن شپس میں حصہ لیں۔ اب تک پہلا بیچ مکمل ہو چکا ہے جس میں مختلف یونیورسٹیز سے طلبہ نے حصہ لیا۔ انہوں نے کراچی، پنجاب اور ہزارہ یونیورسٹی سمیت دیگر اداروں میں سیمینارز کا بھی ذکر کیا۔
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا یونیورسٹی کے قیام پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تاکہ نوجوان صحافیوں کو باقاعدہ تربیت اور سمت مل سکے، اور عوام جھوٹی اور سچی خبروں میں فرق کر سکیں۔