کمبوڈیا نے اقوام متحدہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا

کمبوڈیا نے تھائی لینڈ کے ساتھ جاری سرحدی جھڑپوں کے پیش نظر فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں کمبوڈیا کے سفیر چیا کیو نے اس مطالبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، ان کا ملک تنازع کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر پرامن حل چاہتا ہے۔

دوسری جانب، تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے جنگ بندی کے مطالبے پر فی الحال کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

یاد رہے کہ، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی میں شدت آ چکی ہے، اور سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ دونوں فریقین ایک دوسرے پر جھڑپیں شروع کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیر اعظم فومتھم ویچایاچائی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ، اگر لڑائی کا دائرہ مزید پھیلا تو یہ مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، لڑائی اب بھاری ہتھیاروں تک پہنچ چکی ہے اور یہ سرحد کے 12 مختلف مقامات تک پھیل چکی ہے۔

تھائی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ، کمبوڈین افواج نے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد راکٹوں کی زد میں آنے والے تمام دیہاتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

ادھر کمبوڈیا نے جوابی الزام عائد کیا ہے کہ، تھائی لینڈ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلسٹر بموں کا استعمال کیا ہے۔ یہ ہتھیار شہری آبادی پر شدید اثرات مرتب کرتے ہیں، اور اسی لیے ان پر دنیا کے بیشتر حصوں میں پابندی عائد ہے۔ تاہم تھائی حکام نے اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

تنازع کے حل کے لیے عالمی سطح پر ثالثی کی پیشکشوں کے باوجود، تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ، ان کا ملک اس معاملے میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو ضروری نہیں سمجھتا۔

دریں اثنا، بین الاقوامی برادری کی جانب سے دونوں ممالک سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی ہے تاکہ، انسانی جانوں کے مزید ضیاع کو روکا جا سکے اور کشیدگی کم کی جا سکے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں