شمائل، لاہور کا اولڈ پیپلز ہوم اور دست گیر

شمائل ہم چار بھائیوں میں سب سے چھوٹااور میں سب سے بڑا ہوں۔وہ حد درجہ حساس، نیک دل اور خیر خواہی کے جذبے سے معمورہے۔جب ابھی وہ پرائمری کلاسوں میں پڑھ رہا تھا تو ایک روز ریاضی کے سوالوں کے حل نکالتے ہوئے وہ گہری سوچ میں گُم ہوگیا۔ سب اہلِ خانہ ایک کمرے میں بیٹھے تھے۔ اُسے خیال میں ڈوبا دیکھ کر میری ماں نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ وہ انتہائے معصومیت سے کچھ یوں بولا۔

”امی جان، میں بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ مجھے زندگی میں آپ کے اورابوجان کے ساتھ دوسرے بھائیوں کی بہ نسبت کم وقت گزارنے کا موقع ملے گا۔“

ہمیں اس سے ایسے ذہین اور دل کو چھولینے والے نازک خیال کی توقع نہ تھی۔ میری ماں نے اُسے اپنے ساتھ لِپٹا لیا اور اُس کا چہرہ چومتے ہوئے بولیں۔

”بیٹا ہم آپ کو باقی سب سے اتنا زیادہ پیار دیں گے کہ ساری کسر نکل جائے گی۔“

اوریہ شمائل ہی ہے جس نے چند برس قبل عید کے روز، عیدالفطر کے دن جب عید کی نمازاور قبرستانوں میں فاتحہ پڑھنے، اگربتیاں سلگانے، گلاب کی پتیاں نچھاور کرنے کے بعد مرد، عورتیں اور بچے زرق برق ملبوسات میں ایک دوسرے کے ہاں شیرینی کھانے بانٹنے جارہے تھے، مجھے کہا ”بھائی جان عید کے دن نیک لوگ یتیم خانوں اور اسپتالوں میں پیسے اور تحفے تحائف بانٹنے جاتے ہیں، اولڈ پیپلز ہوم شاید کوئی نہ جاتا ہو۔ کیوں نہ ہم چند تحائف لے کر اُدھر جائیں۔“

میں نے اُس کی جانب دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں ہم دردی اورانسان نوازی کے جذبات موج زن تھے۔

معلوم کرنے پر لاہور چھاؤنی میں اپنے گھر کے قریب ایک اولڈ پیپلز ہوم کا معلوم ہوا۔جب ہم اُس عمارت میں داخل ہوئے توپتالگا کہ کسی آدمی کی زندگی میں ’اُجاڑ پڑنا‘ کی معنویت کیا ہے۔غالباً فیلڈ مارشل ایوب خان کے دورمیں سروس گروپ آف انڈسٹریز کے نیک دل لوگوں نے کئی کنال پر محیط اولڈ پیپلز ہوم قائم کیا تھا۔ لاہور ایرپورٹ سے بھٹہ چوک کی جانب جاتے ہوئے یہ رستے میں پڑتاہے۔دہائیوں پہلے جب وہ عمارت قائم کی گئی تھی اوراُس کے سامنے اور پشت پر باغات سینچے گئے تھے تو یقینا وہ دیدہ زیب نظارہ دیتی ہوگی۔اب بھی اُس کا ذمہ دار نگران اور چوکس عملہ اس امر کے غمازتھے کہ سروس گروپ کی بعد کی نسلوں نے بھی اس نیک کام کو قرینے سے سنبھال رکھا ہے۔

داخلی گیٹ سے ملحقہ باغیچے میں ایک چارپائی دھری تھی۔ جب ہم نے مہتمم سے پوچھا کہ باغیچے میں چارپائی کیوں رکھی ہے تو اُس نے بتایا کہ اُس چارپائی پر ایک میّت رکھی تھی۔ وہ میّت پنجاب یونی ورسٹی کے انگریزی کے پروفیسر ارشد یا راشد کی تھی جو ہوم کی تنہائی میں وفات پاگئے تھے۔ مہتمم نے بتایا کہ عید کی وجہ سے قریبی مارکیٹیں بند تھیں، سوعملے کا ایک آدمی جنازے کے لیے لوگ باگ اکٹھے کرنے نکلا ہوا تھا۔معلوم ہوا کہ مرحوم ایک قابلِ قدر پروفیسر اور ثقہ دانش ور تھے جنھوں نے شادی نہ کی تھی اور اپنی زندگی تعلیم و تدریس کے لیے وقف کردی تھی۔ دل دہلادینے والامنظر تھا، عید کی صبح، اولڈ پیپلز ہوم کا باغیچہ اور تنہا میّت۔

ہوم کے رہائشیوں کے لیے کیرم بورڈ، ٹی وی اور دیگر دل چسپیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اُس کے مرکزی کمرے میں چند بوڑھے ویران نظروں سے اِدھراُدھر دیکھ رہے تھے۔

خواتین کا ونگ علیحدہ تھا۔ جب مختلف بزرگ خواتین سے ہوتے ہوئے ہم نے بالائی منزل کے ایک کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک انتہا درجے کی گریس فُل بزرگ خاتون برآمد ہوئیں۔ انھوں نے ہمیں اور مہتمم کو استفسارانہ نظروں سے دیکھا۔ شمائل نے بہت احترام سے ایک تحفہ ان کے ہاتھوں میں تھمادیا۔ انھوں نے جس خاموشی سے دروازہ کھولا تھا، تحفہ تھام کر اُسی خاموشی سے دروازہ بھیڑدیا۔

”کتنی گریس فُل عورت ہے۔“ شمائل نے اتنا کہا تو مہتمم نے اس کی روداد ہمارے سامنے کھول کر رکھ دی۔
وہ غالباً جرمن نژاد پاکستانی خاتون تھی۔ اُس کی ماں جرمن تھی اور باپ پاکستانی۔ اُسے اپنے باپ سے عشق تھا۔ ماں کے مرنے کے بعد وہ اپنے باپ کی ماں، بہن اور بیٹی سب کچھ بن گئی۔ اُس سے بڑا ایک بھائی تھا جو شادی شدہ تھا اور ایک اہم عہدے پرفائز تھا۔ اُس کی رہائش قریب ہی ڈیفنس کے ایک بنگلے میں تھی اور وہ سال میں ایک آدھ مرتبہ بہن کو ملنے اولڈ پیپلز ہوم آجاتا تھا۔ اس خاتون نے اپنے باپ کی خاطر شادی نہ کی تھی۔ جب باپ بوڑھا ہوگیا تو وہ اپنے ہاتھوں سے لقمے بنا کر باپ کو کھلاتی تھی، اُس کا بول وبراز صاف کرتی تھی اور اس کی دیکھ بھال میں کوئی کمی نہ آنے دیتی تھی۔ باپ کی وفات کے بعد وہ اکیلی رہ گئی اور لاہور میں سروس گروپ کا اولڈ پیپلز ہوم اُس کا مقدر ٹھیرا۔ مہتمم کی آنکھیں نم تھیں۔
”کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ خاتون اپنا آدھا کھانا کھا کر بقیہ ٹرے رکھ کر لے آتی ہیں اور کہتی ہیں ’یہ پاپاکودے دیں، وہ بھوکے ہوں گے۔‘ ایسے میں یہ بھول جاتی ہیں کہ ان کے پاپافوت ہوچکے ہیں۔“

یوں نظر آتا تھا کہ تنہائی نے اس بے آسرا خاتون کے حواس پر برُا اثر ڈالا تھا۔

عید کا وہ دن ہم دونوں بھائیوں پر سے خاموشی اور اداسی سے گزر گیا۔ البتہ ایک کہنے کی بات ہے جو کہہ دینی چاہیے۔
کئی بیٹے بیٹیاں والدین کو سنبھالنے کے لیے، ان کی محبت میں شادی نہیں کرتے یا اُن کی شادی کی عمر نکل جاتی ہے یا پھر وہ اپنے والدین کواپنے بیوی بچوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ بعض اوقات بڑے بہن بھائی اپنے کیریئرز اورشادی بیاہ میں رچ بس جاتے ہیں،سب سے چھوٹے بچے یا بچی پر ماں باپ کو سنبھالنے کی ذمہ داری آجاتی ہے۔بہرحال انصاف توازن کا تقاضا کرتا ہے۔

بیش تر اولاد ماں باپ کی خیرخواہ ہوتی ہے، البتہ ان میں کم کم ہی بچے ہوتے ہیں جو عملی طور پر اپنی زندگی ماں باپ پر وار دیتے ہیں۔ دیگر اولاد کے پاس سو جواز ہوتے ہیں، معقول وجوہات بھی اور نامعقول بہانے بھی۔ البتہ ماں باپ کی خدمت کے حق میں اس سے بڑی کوئی دلیل نہیں کہ وہ اولاد کودنیا کا سب سے بڑا تحفہ دیتے ہیں، زندگی کا تحفہ۔ استنثیات سے ہٹ کر، ماں باپ سے زیادہ مخلص اورخیرخواہ کوئی نہیں ہوسکتا، سوائے اس کے جِسے مسیحیت میں ’روحِ مقدس‘ اور دینِ اسلام میں ’اللہ مالک الملک‘(بادشاہوں کا بادشاہ) کہا گیا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ اپنے کیریئر اور مستقبل کو مقدم ٹھیرانے والی اولاد زندگی میں آگے بڑھ جاتی ہے، اسے عہدے مل جاتے ہیں، بیرونِ ملک کاروبار جم جاتے ہیں،دولت کی ریل پیل ہوجاتی ہے، احباب کا ہجوم گھیرے رکھتا ہے۔

اور وہ ایک جوماں باپ کی کفالت اورخیرخواہی کی ذمہ داری اٹھالیتا ہے، راتوں کو اُن کے ساتھ جاگتا ہے، تنہائیوں میں ان کا غم خوار ہوتا ہے، جب دنیا ان بوڑھوں کو چھوڑ دیتی ہے تو وہ ان کارفیق ہوتا ہے،ہم دم، ہر دم،آخر میں وہ اکیلا رہ جاتا ہے،عملی زندگی میں دیگر سے پیچھے رہ جاتا ہے، اپنے گروہ سے بچھڑنے، پیچھے رہ جانے والی تنہا چلتی معصوم بھیڑکی مانند، خدائی میں بھٹکتی ملکوتی روح۔کہنے کو تو وہ جنت کما لیتا ہے لیکن اِس دنیا میں تو جینے کے بھی اسباب چاہئیں۔ ایسا آدمی جو اپنے نحیف ماں باپ کی دست گیری کرتا ہے، ان کی دل جوئی کرتا ہے،وہ بلاشبہ اجمیر کے خواجہ معین الدین چشتی ؒ المعروف غریب نواز اور بغداد کے شیخ عبدالقادر جیلانی ؒالمعروف دست گیر کے مزار دربار کے متولیوں سے زیادہ مقدس اور داتا کے آستانے کے گنبد پر بسیرا کرنے والے کبوتروں سے زیادہ پاک ہوتاہے۔

مگر زندگی فقط عظمت کے خطاب کے سہارے نہیں گزرتی۔ دیگر بھائی بہن تو بلٹ ٹرین پرنکل گئے۔ اب ماں باپ کے بعد اِس کے اسٹیشن پر تو پسنجر ٹرین بھی نہیں ٹھیرتی۔اس کے بھی بیوی بچے ہیں،اس کے بھی خواب ہیں، اے عشقِ ازل گیروادب تاب اس کے بھی ہیں کچھ خواب۔

ایسے میں دیگر بہن بھائیوں پر لازم ہے کہ اس کا ہاتھ تھام کر اُسے اُٹھائیں، ماں باپ کو سوچنا ہے کہ وہ بچہ عملی خدمت میں دیگر سے برتر ہے سو اگر وہ کچھ سامانِ دنیا رکھتے ہیں تو صدائے اجل کو لبیک کہنے سے پہلے اُس کا خاطرخواہ انتظام کر جائیں، وگرنہ بعد ازاں مروجہ قانون تو سب کو برابر سمجھتا ہے، قانون کی دیوی کی آنکھوں پر پٹی تو بندھی ہے ہی مگر تقسیمِ ترکہ کے معاملات پر اُس کا سینہ قلب تو کجا،دل بھی نہیں رکھتا۔سو

اے خانہء برانداز چمن کچھ تو اُدھر بھی

اپنا تبصرہ لکھیں