چینی صدر کا دورہ وسطی ایشیا، ازبکستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اور عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ نے آج آستانہ میں ملاقات کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنا تھا۔

دونوں رہنماؤں نے اہم دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا اور حالیہ برسوں میں ازبکستان اور چین کے درمیان بے مثال دوستی اور جامع اسٹریٹیجک شراکت داری کے مضبوط ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

صدر مرزائیوف نے بتایا کہ جنوری 2024 میں چین کے ان کے سرکاری دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر تیزی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ تمام سطحوں پر تبادلے اور تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان اسٹریٹیجک بات چیت کا آغاز بھی شامل ہے۔ خاص طور پررواں ماہ کے اوائل میں سمرقند میں دوسرا علاقائی فورم کامیابی سے منعقد ہوا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تجارت 14 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ، جبکہ مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کا پورٹ فولیو 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ ازبکستان بھر میں مشترکہ ٹیکنو پارکس اور خصوصی صنعتی زونز مؤثر طریقے سے کام کر رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے سبز توانائی، تیل و گیس، کیمیکلز، فارماسیوٹیکلز، دھات کاری، کان کنی، ٹیکسٹائل، خوراک کی پیداوار، اور تعمیرات کے ساتھ ساتھ لاجسٹکس، سمارٹ زراعت، مصنوعی ذہانت، اور ڈیجیٹلائزیشن میں امید افزا منصوبوں کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات کے دوران رہنماؤں نے بین الاقوامی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا اور اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، وسطی ایشیا-چین فارمیٹ، اور دیگر کثیر جہتی پلیٹ فارمز کے فریم ورک کے اندر مسلسل ہم آہنگی اور باہمی حمایت کی اہمیت کی پر بات کی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں