خواتین میں ٹائپ ٹو شوگرکی تشخیص دیر سے کیوں ہوتی ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق، مردوں میں خواتین کی نسبت ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص زیادہ ہوتی ہے، دنیا بھر میں تقریباً 18 ملین زیادہ مرد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔

جب خواتین کو تشخیص ہوتی ہے تو وہ اکثر عمر میں بڑی ہوتی ہیں اور ان کے جسم میں چربی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین ذیابیطس سے متعلق امراض خاص طور پر دل کی بیماریوں کے باعث زیادہ اموات کا شکار ہوتی ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ خواتین میں ذیابیطس کی کم تشخیص بھی اس فرق کی ایک وجہ ہو سکتی ہے—شاید خواتین کے کئی کیسز نظر انداز کیے جا رہے ہوں۔

ممکنہ وجوہات اور پیچیدگیاں

علامات کا فرق اور غیر واضح علامات:
خواتین میں ذیابیطس کی علامات مردوں کے مقابلے میں مختلف یا کم واضح ہو سکتی ہیں۔ مثلاً، خواتین کو تھکن، نیند کی کمی، اور ہارمونی تبدیلیاں زیادہ محسوس ہوتی ہیں، جو اکثر ذیابیطس سے منسوب نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی بیماری دیر سے پہچانی جاتی ہے۔

سماجی اور ثقافتی عوامل:
بہت سی خواتین صحت کی دیکھ بھال میں مردوں کے مقابلے میں خود کو کم ترجیح دیتی ہیں، یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنی صحت کے مسائل چھپاتی ہیں۔ یہ عوامل تشخیص میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔

ہارمونز اور ذیابیطس:
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین کے ہارمونی نظام، خاص طور پر ایسٹروجن کی کمی (مثلاً مینوپاز کے بعد)، انسولین کے اثرات کو متاثر کرتی ہے، جس سے ذیابیطس کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

موٹاپا اور چربی کی نوعیت:
موٹاپے کی شکل اور چربی کے پھیلاؤ میں جنس کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے۔ خواتین میں عام طور پر ہپ اور رانوں کے گرد چربی جمع ہوتی ہے جبکہ مردوں میں پیٹ کے گرد چربی زیادہ ہوتی ہے، جو ذیابیطس کے مختلف اثرات کا باعث بنتا ہے۔

دل کی بیماریوں میں زیادہ خطرہ:
ذیابیطس خواتین میں دل کی بیماریوں کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ بڑھاتی ہے، اور دیر سے تشخیص کی وجہ سے بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے اموات کا تناسب بھی زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق اور آگاہی کی ضرورت
ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ذیابیطس کے بارے میں آگاہی کو بڑھایا جائے، خاص طور پر خواتین میں بیماری کی ابتدائی علامات کو پہچاننے اور تشخیص کی مدت کو کم کرنے کے لیے۔ اس کے لیے صحت کے شعبے میں صنفی حساسیت (gender sensitivity) کو بڑھانا ضروری ہے تاکہ خواتین کو مناسب وقت پر تشخیص اور علاج فراہم کیا جا سکے۔

خواتین کیسے شوگر سے محفوظ رہ سکتی ہیں ؟
باقاعدہ طبی معائنہ: خاص طور پر خواتین کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے بلڈ شوگر اور دیگر متعلقہ ٹیسٹ کرائیں، خصوصاً اگر خاندانی تاریخ میں ذیابیطس ہو۔

متوازن غذا: کم شکر اور متوازن غذا کو اپنانا، جس میں سبزیاں، پھل، اور کم کیلوری والے کھانے شامل ہوں۔

مشق اور سرگرمی: روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ہلکی پھلکی ورزش جیسے واکنگ، یوگا یا سائیکلنگ کرنا مفید ہے۔

وزن کا کنٹرول: جسمانی وزن کو مناسب حد میں رکھنا، کیونکہ زیادہ وزن ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔

ذہنی دباؤ کا کم کرنا: ذہنی تناؤ اور دباؤ بھی ذیابیطس کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے، اس لیے آرام، نیند اور ذہنی سکون کے لیے وقت نکالنا ضروری ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں