ملک بھر میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے حوالے سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بھی تقریباً 80 سے 90 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
وفاقی وزرا عطااللہ تارڑ اور مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ملک میں اگست کے آخری ہفتے سے لے کر ستمبر کے وسط تک نئے مون سون اسپیلز متوقع ہیں، جن میں بارشوں کے ساتھ کلاؤڈ برسٹ کے امکانات بھی ہیں۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، تاہم صورتحال ستمبر کے آخر تک معمول پر آنے کی امید ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مون سون بارشوں کے دوران اب تک 670 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ ایک ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا میں ہوا ہے جہاں صرف 15 اگست کے بعد سے 392 افراد ہلاک اور 245 زخمی ہوئے ہیں۔ بونیر میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد لقمہ اجل بنے۔
ادھر خیبر پختونخوا حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضے کی رقم 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کے مطابق تمام اضلاع کو 85 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں اور آج سے چیکس کی تقسیم شروع ہو گئی ہے۔
صوابی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث دالوڑی گاؤں میں کئی مکانات پانی میں بہہ گئے ہیں اور کئی افراد کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلابی ریلے کی شدت کے باعث لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی اور متعدد پل تباہ ہو گئے۔ ریسکیو اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں جبکہ مردان اور ہری پور سے اضافی ٹیمیں بھی طلب کی گئی ہیں۔
شدید بارشوں سے شانگلہ سمیت سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ اور بٹگرام میں درجنوں مکانات تباہ ہوئے ہیں۔ شانگلہ میں انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظر تحصیل پورن اور شاہپور کانا میں اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
پشاور میں موسلا دھار بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب آگئے اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ تاجر برادری کے مطابق پیپل منڈی میں 20 سے زائد دکانیں پانی میں ڈوب گئیں جس سے مالی نقصان ہوا۔ نوشہرہ میں بارش سے کمرے کی چھت گرنے کے نتیجے میں میاں بیوی جاں بحق ہو گئے جبکہ آزاد جموں کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں یونیورسٹی کی ایک خاتون لیکچرر گاڑی سمیت نالے میں بہہ جانے سے ہلاک ہو گئیں۔
مظفرآباد میں شاہراہ نیلم پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ بونیر اور مالاکنڈ کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں بارش کے باعث تاحال مشکلات کا شکار ہیں۔