9 مئی کیسز: اپوزیشن لیڈر پنجاب سمیت 36 افراد کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی

سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق میانوالی میں درج مقدمے میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے رہنما،ملک احمد خان بچھر اور دیگر 35 افراد کو 10،10 سال قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔

میانوالی کے تھانہ موسیٰ خیل میں درج مقدمہ نمبر 72 کا فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت نے سنایا، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنان پر پُرتشدد مظاہروں، جلاؤ گھیراؤ اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔

سزا پانے والوں میں رکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ، سابق ایم این اے بلال اعجاز اور پی ٹی آئی کے کئی دیگر رہنما و کارکن شامل ہیں۔ عدالت نے تمام 36 افراد کو 10 برس قید کی سزا سنائی۔

اس عدالتی فیصلے کے ردعمل میں اپوز یشن لیڈر ملک احمد بچھر نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ، عدالت نے سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمے میں آئینی تقاضے پورے کیے بغیر سزا سنائی، اور یہ کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد حکومت نے عدلیہ پر اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔

ملک احمد بچھر نے مزید کہا کہ، تحریری فیصلہ موصول ہونے کے بعد وہ عدالت عالیہ سے رجوع کریں گے، تاہم فی الحال ان کی نااہلی سے متعلق بات کرنا قبل از وقت ہے۔
یاد رہے کہ، اس سے قبل دسمبر 2024 میں فوجی عدالتوں نے بھی 9 مئی واقعات میں ملوث متعدد افراد کو سزائیں سنائی تھیں۔ 21 دسمبر کو 25 افراد کو 10 سال قید کی سزا دی گئی، جبکہ 26 دسمبر کو عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سمیت 60 افراد کو بھی قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئیں۔ بعد ازاں، 2 جنوری 2025 کو فوج کے کورٹس آف اپیل نے 19 مجرموں کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کیا تھا۔

9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد ملک گیر مظاہرے ہوئے تھے۔ اس دوران لاہور، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں پرتشدد مظاہرے کیے گئے، جناح ہاؤس پر حملہ ہوا، جی ایچ کیو کا گیٹ توڑا گیا، سرکاری و نجی املاک کو نذر آتش کیا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے بعد 1900 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی کے قائدین اور کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی قائم کیے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں