‘یہ دردناک اور غم ناک تجربہ تھا’، جاپان پر امریکی ایٹمی حملوں کو 80 برس بیت گئے

جاپان کے مغربی شہر ہیروشیما پر امریکی ایٹمی حملے کی 80ویں برسی بدھ کے روز منائی گئی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں زندہ بچ جانے والے بزرگ افراد نے موجودہ عالمی حالات، بالخصوص جوہری ہتھیاروں پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔

ایٹمی حملے کے زندہ بچ جانے والے افراد کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے اور ان کی اوسط عمر 86 برس سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث اس برسی کو بہت سے افراد کے لیے آخری یادگار موقع قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق 94سالہ منورو سوزوتو، جو حملے میں زندہ بچ گئے تھے، نے یادگار کے سامنے گھٹنے ٹیک کر دعا کی اور کہا کہ آئندہ 10 یا 20 سالوں میں کوئی باقی نہیں بچے گا جو اس دردناک اور غمناک تجربے کو آگے منتقل کر سکے۔ اسی لیے میں اپنی کہانی جتنا ہو سکے بانٹنا چاہتا ہوں۔

6 اگست 1945 کو امریکی طیارے بی-29 نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا، جس سے شہر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور اندازاً 1 لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ تین دن بعد 9 اگست کو ناگاساکی پر دوسرا ایٹمی حملہ کیا گیا جس میں مزید 70 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ ان حملوں کے بعد جاپان نے 15 اگست کو ہتھیار ڈال دیے اور دوسری جنگ عظیم کا اختتام ہوا۔

80ویں برسی کے موقع پر ہیروشیما کے پیس میموریل پارک میں ایک رسمی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ریکارڈ 120 ممالک اور علاقوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ صبح 8 بج کر 15 منٹ پر، جب بم گرایا گیا تھا، ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور امن کی علامت گھنٹی بجائی گئی۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا پیغام بھی پڑھا گیا، جس میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے لیے زندہ بچ جانے والوں کے پیغام کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔

ہیروشیما میں جمع ہونے والے متعدد زندہ بچ جانے والوں اور ان کے لواحقین نے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں