جشن آزادی تجدید عہد کا عظیم دن

نہیں نشیمن تیرا قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

عوام اس بار اپنا78 واں یوم آزادی ملی جوش و جذبہ سے منا رہی ہے ۔ 14 اگست کی صبح کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومت میں 21 توپوں کی سلامی سے کیا جائے گا ، جبکہ حسب سابق پورے ملک میں قومی پرچم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں پر لہرائے گا ۔ اس کے ساتھ ہی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا خصوصی پروگرامز و ایڈیشن شائع کریں گے ۔

14 اگست جشن آزادی ہمیں اپنے اسلاف کی انمول قربانیوں کی یاد دلاتا ہے ۔ یہ دن ہمیں قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں کی لازوال و انمٹ جدوجہد کی یاد تازہ کرواتا ہے ۔

اس عظیم دن وطن عزیز کے عوام اپنی تکلیفوں کو بھول کر اپنے آباؤ اجداد کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہیں ۔

آج 14 اگست جشن آزادی کے دن عوام کو انکی تکلیفوں اور پریشانیوں سے نکالنے والے مسیحا کہاں ہیں ۔ خدا کیلئے انکو ان تکلیفوں سے کون نجات دلوائے گا ۔ بجلی ، گیس کے عوام کی پہنچ سے دور بیش بہا بلز کا مداوا کون کرے گا ۔
پاکستان کو آزادی حاصل کیے 78 سال ہو گئے ہیں لیکن اس کو مہنگائی اور بے روزگاری کے عفریب سے نجات کب ملے گی ؟ اس کے پسے ہوئے طبقے کو ان کا حق کب ملے گا ؟ ملک میں قانون کی حکمرانی کب ہوگی ؟ کم از کم 40,000 تنخواہ 8 گھنٹے ڈیوٹی پر عملدرآمد کب ہوگا ؟

پلٹنا جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ھے اک بہانہ

اس جشن آزادی پر ہمیں حکومتی ایوانوں سے عوامی ریلیف کی توقع ہے ۔ تاکہ اس وطن عزیز کے پسے ہوئے عوام اپنی زندگی میں آسانیاں دیکھ سکیں ۔
پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی عظیم سوچ اور شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا خواب تھا ۔جو ان کے جانثاروں ، بہادروں ، مجاہدوں ، غازیوں اور شہیدوں کی عظیم قربانیوں کا ثمر ہے ۔ آج ہم خدائے ذوالجلال کی بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہو کر جس قدر بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔

آج وطن عزیز کی آزاد فضائیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ ھم الحَمْدُ ِلله اپنے اکابرین کی قربانیوں ، بے لوث جذبوں اور انمٹ قربانیوں کی بدولت آج ایک آزاد وطن آزاد فضا ٕ اور آزاد سرزمین پر موجود ہیں ۔ ہمارا سبز ہلالی پرچم ہمارے اسلاف کی انمٹ قربانیوں کی داستان رقم کیےہوئے ہیں۔ 14 اگست 1947 وطن عزیز کی آزادی کا دن ھمارے لیے تحفہ خداوندی سے کم نہ ہے ۔
پاکستان کے قومی پرچم کا ڈیزائن امیر الدین قدوائی نے قائد اعظم کی ہدایت پر مرتب کیا تھا۔ یہ گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے سبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔ سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند(ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہوتاہے، سفید رنگ کے چاند کا مطلب ترقی اور ستارے کا مطلب روشنی اور علم کو ظاہر کرتا ہے۔ کسی سرکاری تدفین کے موقع پر’ 21′+14′, 18′+12′, 10′+6-2/3′, 9′+6-1/4سائز کا قومی پرچم استعمال کیا جاتا ہے اور عمارتوں پر لگائے جانے کے لیے 6′+4′ یا3′+2′کا سائز مقرر ہے۔

سرکاری گاڑیوں اور کاروں پر12″+8″کے سائز کا پرچم لگایا جاتا ہے جبکہ میزوں پر رکھنے کے لیے پرچم کا سائز 6-1/4″+4-1.4″ مقرر ہے۔

پاکستان کا قومی ترانہ پہلی بار 1954 میں نشر ہوا ۔اسکی دہن احمد جی چھاگلہ نے ترتیب دی ۔جبکہ ترانے کے بول حفیظ جالندھری نے تخلیق کیے۔قومی ترانے سے قبل پاکستان زندہ باد بطور قومی ترانہ استعمال ہوا کرتا تھا ۔

پاک سر زمین شاد باد
کشور حسین شاد باد
تو نشان عزم عالی شان
ارض پاکستان !
مرکز یقین شاد باد
پاک سر زمین کا نظام
قوت اخوت عوام
قوم ملک سلطنت
پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد
پرچم ستار و ہلال
رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال
جان استقبال !
سایہ خدائے ذوالجلال

اپنا تبصرہ لکھیں