خیبر پختونخوا میں 15 اگست سے جاری بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اس حوالے سے ابتدائی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب تک مختلف حادثات میں 406 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 131 مرد، 167 خواتین اور 108 بچے شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 245 بتائی گئی ہے۔
مالی نقصان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں 2810 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 2136 جزوی طور پر متاثر جبکہ 674 مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
سب سے زیادہ جانی نقصان ضلع بونیر میں ہوا، جہاں 237 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں سوات، باجوڑ، مانسہرہ، شانگلہ، دیر لوئر، بٹگرام، ڈیرہ اسماعیل خان اور صوابی شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ کو متاثرہ علاقوں میں فوری امداد اور بحالی کی سرگرمیوں کی ہدایت کر دی گئی ہے، جبکہ ایمرجنسی آپریشن سینٹر مسلسل کام کر رہا ہے۔ عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال یا معلومات کے لیے ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔