پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک روز قبل ہونے والی دو الگ کارروائیوں میں 10 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد بھارتی سرپرستی یافتہ ’فتنہ الخوارج‘ سے منسلک تھے۔
بیان کے مطابق پہلی کارروائی جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں ہوئی، جہاں دہشت گردوں کے ایک گروپ نے سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے حملے کی کوشش ناکام بنا دی اور فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
دوسری کارروائی ضلع دیر میں ہوئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے مزید 2 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ افراد علاقے میں متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
فوج کے مطابق علاقوں میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے امکان کے پیش نظر کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، جبکہ غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔
دوسری جانب صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کارروائیوں میں حصہ لینے والی سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور اعظم ورسک میں حملے کی کوشش ناکام بنانے پر ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف اپنی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کی تعریف کی اور کہا کہ دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کے عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔
اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق جولائی میں دہشت گرد حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں سے متعلق تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 2026 کا سب سے مہلک مہینہ ثابت ہوا، جس میں 112 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 205 افراد جان سے گئے۔