مالی مشکلات میں جہاں آج ہم کھڑے ہیں، شاید ہی کبھی پہلے اتنے حالات خراب ہوئے ہوں۔ جب سے پیدا ہوئے ہیں اسی طرح کے الفاظ سنتے چلے آ رہے ہیں اور امید ہے کہ اگر ہم نے خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کی تو کئی سالوں تک مزید بھی اسی طرح کے الفاظ سنتے ہی رہیں گے۔ ہماری بحیثیت قوم پچھلے 78 سالوں سے کوئی سوچ ہی نہیں پنپ رہی، نہ آج تک ہم اپنی مرضی سے اپنا حکمران لا سکے ہیں نہ ہم اپنی منزل کا بطور قوم کوئی تعین کر سکے ہیں۔ ہر کوئی دوسرے کے مرہون منت زندگی گزار رہا ہے، چاہے کوئی انفرادی سوچ رکھتا ہے چاہے اجتماعی۔ بحیثیت قوم بھی ہم اپنی خودی میں جینے کی بجائے دوسروں کی طرف ہی للچائی ہوئی نظر رکھتے ہیں۔
دن بدن اشرافیہ امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بجٹ بنانے والے ، ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے صاحب اقتدار اور عام عوام کا دور کا بھی واسطہ نہیں، دونوں کی سوچ میں اتنا فرق پڑ چکا ہے جیسے وہ آسماں کی بلندیوں پر ہوں اور عام انسان زمین کی تہوں کے نیچے دور کہیں۔
جب اجتماعی سوچ پر پابندی ہو، جب جمہور کی آواز کو دبا دیا جائے، جب عوام الناس کے فیصلے چند ہاتھوں میں ہوں، جب ٹیکسز کی برمار ہو، جب آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو ان حالات میں جینے کے لیے انفرادی طور پر اب ہمیں انقلابی قدم اٹھانے ہوں گے نہیں تو بہت دیر ہو جائیگی۔۔۔۔۔۔
ہمیں اپنی مالی پریشانیوں و بدحالیوں سے بچاؤ کے لیے حکومتی کارندوں اور نام نہاد حکمرانوں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا، اپنے موجودہ وسائل کا جائزہ لینا ہو گا، اپنا رہن سہن موجودہ وسائل سے کم پر زندگی گزارنے کا سلیقہ سیکھنا ہو گا۔
کاروباری ضرورت کے علاوہ پورے گھر میں صرف ایک اسمارٹ فون رکھیں، اس وقت بغیر کسی ضرورت کے گھر کے ہر فرد بچوں سے لے کر بوڑھے تک اسمارٹ فون ہے۔
جسکی وجہ سے گھر کا ہر شخص چاہے وہ مرد ہو یا عورت اسمارٹ فون میں گھسا رہتا ہے اور ایک دوسرے کیلئے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ جو فرد کما رہا ہے اس کے علاوہ گھر میں صرف ایک فون رکھیں، جسے سب حسب ضرورت استعمال کریں، جیسے کبھی لینڈ لائن فون ہوا کرتا تھا جو پورے گھر بلکہ اڑوس پڑوس کی ضرورت بھی پوری کرتا تھا ۔
معاشرتی اور خود ساختہ مذہبی رسومات سے مکمل کنارا کشی اختیار کریں، فرائض کی ادائیگی کو اولیت دیں، اپنی مالی و جسمانی حیثیت سے بڑھ کر دنیا والوں کو دکھانے کے لئے خواہ مخواہ قرض لے کر رسومات کی ادائیگی بالکل نہ کریں۔ اور نہ ہی نام نہاد رسومات کا بہانہ بنا کر اپنے روز مرہ کے معمولات سے چھٹیاں کیا کریں۔
دیکھا دیکھی والی زندگی گزارنے سے بچیں، اس سے بھی بچیں کہ کوئی آپ کو دیکھ کر آپ کے اسٹیٹس کے حوالے سے کیا فرمائے گا۔ کیا کہے گا، آپ کی ناک نہیں کٹے گی، فکر نہ کریں وہ آپ کے ساتھ ہی رہے گی۔ خود اپنے اندر جھانکیں خدا کے دیے پر شکر کریں، صرف اپنے نام نہاد اسٹیٹس کو کی علامت کے طور پر بلا وجہ نئی نئی گاڑیاں، کوٹھیاں، زیورات، گھر و دفاتر کی ڈیکوریشن اور دیگر چیزیں تبدیل کرنا چھوڑ دیں۔
اسی طرح گھر کے بکے ہوئے کھانے پر ناک منہ چڑھانا، غصہ کرنا چھوڑ دیں، جو پکا ہو میثر ہو شکر کر کے تناول فرمائیں، بلا وجہ پیزے، شوارمے، برگر آرڈر نہ کریں نہ ہی ہفتے کے آخر میں بلاوجہ باہر کا کھانا کھانے چلے جایا کریں۔ آوٹنگ کا شوق پورا کرنے کے لیے مہینہ میں ایک آدھ بار گھر کا پکا کھانا ساتھ لیں کسی پارک، فارم ہاؤس میں جا کر تفریح بھی کر لیں اور گھر کے پکے ہوئے صحت بخش کھانے سے بھی لطف اندوز ہوں۔
اسی طرح مہنگے سستے ہر قسم کے سیلون، پارلر اور کپڑوں کے لئے نت نئے نئے برانڈ منتخب کرنے کے جھنجٹ سے بھی فوری طور پر نجات حاصل کریں۔ جو رشتہ دار دوست احباب ان چیزوں کا بڑھ چڑھ کر ذکر کریں یا پھڑیں ماریں ان کی باتوں کو سنی ان سنی کریں، اور ان سے خود بھی دور رہیں اپنے بچوں کو بھی دور رکھیں۔ اپنی زندگی اپنی سوچ کے تابع اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کے اصولوں کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔
چھٹی کے نام پر یا فیشن کے طور پر بگڑا ہوا طرز زندگی اپنانا جیسے دیر سے سونا، دیر سے اٹھنا، چھٹی والا دن سو کر ضائع کر دینا، کھانے ناشتہ کا کوئی وقت نہ ہونا، کوئی ایکسرسائز نہ ہونا، ترک کر دیں۔ تمام معمولات زندگی نمازوں کے اوقات کار کے مطابق ایڈجسٹ کریں۔
اپنے فیملی فنکشن شادی بیاہ، سالگرہ وغیرہ پر زیادہ پیسہ خرچ کرکے خواہ مخواہ ایکسکلوسیو یا نام نہاد شاہی بنانے کی کوشش نہ کریں بلکہ فیملی گیٹ ٹو گیدر اور بہت قریبی چند دوست احباب کے ساتھ انتہائی سادگی سے منائیں۔
اسی طرح سوائے ایمرجنسی کے کبھی قرض نہ لیں۔ آج ہم وہ کچھ خرچ کر رہے ہیں جو ابھی تک ہم نے کمایا ہی نہیں ہوتا، یعنی قرضوں اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعہ سے اور اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ رقم بعد میں واپس کرنی پڑتی ہے۔ اور خواہ مخواہ کی ٹینشن بطور بونس ملتی ہے۔ لہذا اپنی عادات و ضروریات کو اپنے وسائل کے حدود میں رکھیں نا کہ اعلیٰ طرز زندگی کی نقل کرنے کے نام نہاد پریشر میں۔
سادہ طرز زندگی ہی ایک خوشگوار اور پرسکون زندگی کی بنیاد ہے، جتنے سادہ ہوتے جائیں گے اتنا ہی مالی پریشانیوں کے بوجھ سے باہر نکلتے جائیں گے۔ یہ کام ہے مشکل مگر نا ممکن نہیں۔