انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیراعظم نریندر مودی کے ممکنہ جانشینوں میں ایک اہم امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ آئندہ سال ہونے والے اتر پردیش کے ریاستی انتخابات میں مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرنے کے مضبوط امیدوار ہیں اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قومی سطح پر ان کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ 2017 سے اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ہیں۔ فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرنے والے انڈین حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انھیں نریندر مودی کی ’عکسی تصویر‘ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق مودی کی طرح یوگی آدتیہ ناتھ بھی خود کو ایک محنتی اور عام لوگوں سے جڑے رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں سے متعلق ان کا سیاسی مؤقف وزیراعظم مودی کے مقابلے میں بھی زیادہ سخت رہا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے فنانشل ٹائمز کو انڈیا کے شہر لکھنؤ میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ راہبانہ زندگی معاشرتی زندگی سے الگ نہیں اور یہ معاشرے اور اس کے مسائل کو سمجھنے کا ایک ذریعہ ہے۔
اپنے دورِ حکومت میں یوگی آدتیہ ناتھ نے اتر پردیش میں سڑکوں، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق سرکاری اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اتر پردیش کی معاشی شرحِ نمو عموماً انڈیا کی مجموعی شرحِ نمو کے مطابق رہی ہے، تاہم ریاست میں یہ تاثر مضبوط ہے کہ ان کی حکومت کے دوران معاشی حالات اور امن و امان میں بہتری آئی ہے۔
مقامی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی اور مبینہ غیر قانونی عمارتیں بلڈوزروں سے گرانے کی پالیسی کے باعث انھیں ’بلڈوزر بابا‘ کا نام بھی دیا گیا۔
یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست کا سب سے متنازع پہلو مسلمانوں سے متعلق ان کی پالیسیوں اور بیانات کو قرار دیا جاتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ان کی حکومت نے گائے کے ذبح سے متعلق قوانین مزید سخت کیے اور نام نہاد ’لو جہاد‘ کے خلاف اقدامات کیے۔ ہندو قوم پرست حلقوں میں یہ اصطلاح ایسے دعوؤں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن کے مطابق مبینہ طور پر مسلمان مرد ہندو خواتین سے تعلقات قائم کر کے انھیں مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
ان کی حکومت نے خواتین کو عوامی مقامات پر ہراسانی سے بچانے کے لیے پولیس کی ’رومیو سکواڈز‘ بھی تشکیل دیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران باہمی رضامندی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور بین المذاہب جوڑوں کو بھی ہراساں کیا گیا۔
فرانس کے شہر پیرس میں سائنسز پو سے وابستہ جنوبی ایشیا کے ماہر کرسٹوف جیفرلو نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست ہندو ووٹروں کو مسلمانوں کے مقابل متحرک کرنے پر مبنی رہی ہے۔
دوسری جانب یوگی آدتیہ ناتھ ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی فلاحی منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران کسی برادری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔
یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاسی شناخت ابتدا سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریاتی مرکز راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، یعنی آر ایس ایس کے ذریعے نہیں بنی۔ ان کا سیاسی اور مذہبی مرکز انڈیا کے شہر گورکھپور میں گورکھ ناتھ مندر رہا ہے جہاں انھوں نے 22 برس کی عمر میں راہبانہ زندگی اختیار کی اور اب وہ اس مندر کے سربراہ بھی ہیں۔
وہ 1998 میں 26 سال کی عمر میں پہلی بار رکنِ پارلیمان منتخب ہوئے تھے۔ 2002 میں انھوں نے ’ہندو یوتھ بریگیڈ‘ کے نام سے اپنی تنظیم بھی قائم کی تھی اور بعض مواقع پر بی جے پی کے باضابطہ امیدواروں کے مقابل اپنے امیدواروں کی حمایت بھی کر چکے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اب یوگی آدتیہ ناتھ اپنی نریندر مودی سے وفاداری پر زور دیتے ہیں اور اپنی مستقبل کی سیاسی خواہشات پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار ان کی سرگرمیوں کو وزیرِ داخلہ امت شاہ سمیت مودی کے دیگر ممکنہ جانشینوں کے ساتھ جاری سیاسی مقابلے کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں۔
جون میں ایودھیا مندر کے عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آیا تو یوگی آدتیہ ناتھ ان اولین رہنماؤں میں شامل تھے جنھوں نے تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعض تجزیہ کاروں نے اسے قومی سطح پر اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا۔
کرسٹوف جیفرلو کے مطابق اتر پردیش کے آئندہ انتخابات یوگی آدتیہ ناتھ کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول اگر یوگی مسلسل تیسری بار اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوتے ہیں تو وزارتِ عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار کے طور پر انھیں نظرانداز کرنا مشکل ہو جائے گا۔