چین کے صدر شی جن پنگ پیر کو شمالی کوریا کے دورے پر پیانگ یانگ پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور ان کی اہلیہ ری سول جو نے ہوائی اڈے پر صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔ بعد ازاں پیانگ یانگ کے مرکزی چوک میں ایک بڑی تقریب منعقد ہوئی جس میں فوجی دستے، ہزاروں شہری اور طلبہ شریک ہوئے۔ شہر کو چین اور شمالی کوریا کے پرچموں اور خیرمقدمی بینرز سے سجایا گیا تھا۔
دو روزہ دورے کے دوران شی جن پنگ اور کم جونگ اُن کے درمیان سربراہی ملاقات بھی متوقع ہے۔ دونوں رہنماؤں کی گزشتہ ملاقات گزشتہ سال ستمبر میں بیجنگ میں ہوئی تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ شمالی کوریا نے حالیہ برسوں میں روس کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو وسعت دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ شمالی کوریا پر اپنا روایتی اثر و رسوخ مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چین شمالی کوریا کو اقتصادی تعاون، زرعی امداد، سیاحت کی بحالی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی پیشکش کر سکتا ہے، جبکہ پیانگ یانگ بیجنگ کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
صدر شی جن پنگ نے شمالی کوریا کے ایک اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں اور عالمی سطح پر یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کریں۔
دوسری جانب کم جونگ اُن کی حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ شمالی کوریا نے حالیہ دنوں میں اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ کا یہ دورہ نہ صرف چین اور شمالی کوریا کے تعلقات بلکہ مشرقی ایشیا کی آئندہ سفارتی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔