برطانیہ کے سمندروں میں آکٹوپس کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ، بدلتا موسم سمندری ماحول کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟

برطانیہ کے سمندری پانیوں میں درجہ حرارت بڑھنے کے باعث آکٹوپس کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے ماہی گیروں کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم آکٹوپس کی بڑھتی ہوئی تعداد کیکڑوں، لابسٹر اور دیگر سمندری جانداروں کے لیے خطرہ بھی بن رہی ہے، جن کے شکار پر مقامی ماہی گیروں کا روزگار انحصار کرتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، برطانیہ میں آکٹوپس کے شکار کی مقدار 2021 کے مقابلے میں تقریباً 1500 فیصد بڑھ چکی ہے۔ پہلے سالانہ اوسطاً 220 ٹن آکٹوپس پکڑے جاتے تھے، لیکن اب یہ مقدار 3700 ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔ آکٹوپس کی برآمدات کی مالیت بھی ایک سال کے دوران ایک لاکھ 64 ہزار پاؤنڈ سے بڑھ کر ایک کروڑ 28 لاکھ پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے۔ فرانس اور اسپین برطانوی آکٹوپس کے بڑے خریدار ہیں۔

تاہم اس اضافے کے منفی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، برطانیہ کے نصف سے زیادہ ماہی گیروں نے بتایا کہ آکٹوپس بڑی تعداد میں کیکڑے، لابسٹر اور اسکیلپس کھا رہے ہیں، جس سے بعض علاقوں میں ان سمندری جانداروں کے شکار میں 30 سے 50 فیصد کمی آئی ہے۔ متاثرہ ماہی گیری کے شعبوں کو 2025 کے دوران ایک کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

سائنس دانوں کے مطابق، جنوب مغربی برطانیہ کے ساحلی پانیوں میں آکٹوپس کی اتنی بڑی تعداد کم از کم 75 سال بعد دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سمندری پانی کا غیر معمولی درجہ حرارت، ہواؤں اور سمندری لہروں کے ساتھ فرانس اور چینل آئی لینڈز سے آکٹوپس کے بچوں کا برطانیہ کی جانب پہنچنا اس اضافے کی ممکنہ وجوہات ہیں۔ رواں سال شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 125 برسوں کے دوران اس خطے میں آکٹوپس کی تعداد میں ہر بڑے اضافے کے وقت سمندری پانی معمول سے زیادہ گرم تھا۔

برطانیہ کی نیشنل فیڈریشن آف فشرمینز آرگنائزیشنز کے سربراہ مائیک کوہن کا کہنا ہے کہ آکٹوپس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد سمندری ماحول کے بارے میں موجودہ اندازوں کو بدل رہی ہے۔ ان کے مطابق، یہ صورتحال ماہی گیروں کے لیے معاشی موقع بھی ہے اور ایک بڑا خطرہ بھی۔ دوسری جانب برطانوی حکومت نے ماہی گیروں، سائنس دانوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے تاکہ آکٹوپس کے شکار اور دیگر سمندری جانداروں کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں