مشیت اور معیشت

بحیثیت وزیراعظم میں کسی کواپنے اقتدار اور آئینی اختیارات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔آئین کی روسے فوج قومی سیاست میں مداخلت نہیں کرسکتی۔خلائی مخلوق کے پاس ایک منتخب وزیراعظم کو ڈکٹیشن دینے یاہٹانے کااختیار نہیں۔دنیا کی کسی ریاست کو پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ شوہربھی شیر کی طرح اپنی بیگم پردھاڑتا ہے! میرے کاروباری معاملات میں مداخلت سے باز رہو۔روشن خیال طبقہ اپنی خلوت میں ماں باپ سمیت کسی کی طرف سے مداخلت برداشت نہیں کرتا۔یہ وہ چند فقرے ہیں جوآپ نے زندگی میں بار بار سنے ہوں گے۔ہماراتھانیدار تو کارسرکارمیں مداخلت کرنے کی پاداش میں شہریوں کیخلاف مقدمات بھی درج کر تا ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار واختیار اپنے اپنے اختیارات میں مداخلت برداشت نہیں کرتے بلکہ اُلٹا عدم برداشت اورطاقت کے استعمال پراترآتے ہیں۔ یادرکھیں ہمارا قادر،کارساز،قوی اورقہار اللہ ربّ العزت بھی اپنی مشیت اوربادشاہت میں اپنے بندوں کی مداخلت پسندنہیں فرماتا۔ایک انتہائی اہم بات اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ ساتھ جنات،حشرات،نباتات اورجنگلی وسمندری حیات کو خلق کیا اورہرکسی کونام دیالہٰذاء کوئی مخلوق اپنے خالق کونام نہیں دے سکتی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے شایان شان اپنی ذات اقدس کیلئے جواسماء الحسنیٰ پسند فرمائے وہ قرآن مجید میں موجودہیں۔بسم اللہ،اعوذباللہ،چھ کلموں،قرآن مجید کی چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ مقدس آیات،اذان،نماز، مسنوں دعاؤں، سیّدنا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم اورسیّدنا حضرت علی ؓ سمیت اللہ ربّ العزت کے مقرب نبیوں کے القابات (حضرت آدم ؑ کاصفی اللہ، حضرت ابراہیم ؑ کاخلیل اللہ،حضرت موسیٰ ؑکاکلیم اللہ،حضرت عیسیٰ ؑکاروح اللہ اورکلمتہ اللہ،حضرت اسماعیل ؑ کاذبیح اللہ، سیّدنا حضرت محمدؐ کارسول اللہ اورحبیب اللہ جبکہ سیّدناحضرت علی ؓ کااسد اللہ) اور تسبیحات میں کسی مقام پر”خدا” نام نہیں آیا، جب اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک ذات کیلئے” خدا” اور GOD” “نام پسند نہیں فرمایا توپھرہم کون ہوتے ہیں جواسے اس نام سے پکاریں لہٰذاء اللہ تعالیٰ کوہراس نام سے پکاریں جواُس نے اختیار اور پسند فرمایا اورقرآن مجید میں ہمیں بتایا۔جس طرح اسم محمدؐ کوانگلش میں بھی MUHAMMADلکھااورپکاراجاتا ہے اس طرح انگلش میں بھی اللہ تعالیٰ کو ALLAH لکھیں اورپکاریں۔بیشک اللہ ربّ العزت بے نیاز ہے،وہ کسی کوجوابدہ اوراس کاکوئی شریک نہیں۔اس کا اپنے ارادوں کی تکمیل کیلئے” کن” فرماناکافی ہوتا ہے۔لہٰذاء ہم انسانوں کیلئے بہتر ہے اپنے معبود برحق کے اختیارات میں ہرقسم کی مداخلت نہ کریں اور اس کی ہررضا میں راضی رہیں۔ہماری کوئی تدبیر ہماری تقدیرکو نہیں بدل سکتی لیکن دعاؤں سے اللہ پاک کی عطاؤں کارخ اپنی طرف موڑا جاسکتا ہے۔یادرکھیں پاک پروردگار کی اطاعت میں ہماری عافیت کاراز پنہاں ہے۔

ہم حقیر بندوں کی کیا مجال جواپنے معبود برحق کے کسی اختیار کااستعمال کرنا شروع کردیں،جی ہاں زندگی اورموت پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کااختیار نہیں۔معبود کی مشیت سے انسان پیدا اوراُسی کی منشاء سے انسانوں کاوقت ختم ہو تا ہے۔دنیا میں کسی عارضی حکمران اور حقیرانسان کے پاس وہ اختیار نہیں جس سے وہ انسانوں کی شرح پیدائش یاآبادی پراثر انداز ہونے کی جسارت کرے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرما یا،”میری نشانیوں پرغورکرو”۔جوانسان نگاہ بصیرت سے مظاہرفطرت کو دیکھتے ہیں ان کا اللہ ربّ العزت پر ایمان اورایقان مزید پختہ ہوجاتا ہے۔یادرکھیں شوہراوربیوی کوئی مینوفیکچرنگ مشین نہیں،ان کے درمیان ہرباہمی کاوش سے بچے کاجنم نہیں ہوتاورنہ ہر ماں باپ کے بیسیوں بچے ہوتے۔تاہم اللہ کے اذن سے عالم ارواح سے جس روح نے دنیا میں آنا ہووہ اپنے مقررہ وقت پر آجاتی ہے۔ پاک پروردگار نے ایک ساتھ ارواح پیدافرمادی تھیں لہٰذاء جوڑوں کی اختیاطی یا حفاظتی تدابیرسے روحوں کاراستہ نہیں روکاجاسکتا۔اگرمحض انسان کے اختیار میں بچے پیداکرنا ہوتا توپھر کوئی میاں بیوی اس نعمت سے محروم نہ ہوتے۔راقم کے نزدیک ایک اسلامی معاشرت میں نام نہادمحکمہ بہبود آبادی براہ راست اللہ کی” مشیت “سے متصادم اور ہماری بیمار”معیشت “پربوجھ ہے، تعجب ہے اس موضوع پر ہمارے علماء کیوں خاموش ہیں۔اللہ ربّ العزت کی مشیت پرچلے بغیر ہماری نجی یا قومی معیشت بہتر نہیں ہوسکتی۔ یہ محکمہ اپنے قیام سے اب تک ہمارے ملک میں انسانوں کی آبادی کنٹرول کرنے کاڈھونگ کررہا ہے کیونکہ یہ کام کسی مخلوق کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ ہم ناتواں انسان اپنے معبود برحق کے اختیارات اورمعاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے،بہتر ہوگا اس محکمے اورآبادی پرکنٹرول کے نام نہاد اقدامات اور بیانات کاسلسلہ بندکردیاجائے۔حکمران جوقومی وسائل آبادی کنٹرول کرنے پر جھونک رہے ہیں وہ پسماندہ آبادیوں کی بحالی پرصرف کریں۔ہماری دنیا سمیت کہکشاؤں کانظام صرف اللہ تعالیٰ کے اذن سے چلتا ہے،وہ ہماری طرف سے مداخلت تودرکنارہماری کسی رائے کابھی روادار نہیں۔ہرریاست کے پاس سب کچھ اللہ پاک کادیا ہے اس میں سے ہرانسان کواس کے بنیادی حقوق دیں اوراس کی ضروریات پوری کریں۔

یادرکھیں انسان جدید ٹیکنالوجی کے باوجود ایک مچھر یامکھی کاپرتک نہیں بناسکتا۔دنیا بھر میں جہاں جہاں نظام قدرت میں مداخلت یافطرت کیخلاف مزاحمت کی گئی وہاں ارباب اقتدار واختیار نے کف افسوس ملتے ہوئے یوٹرن لیا،آج وہ ملک اپنے شہریوں کو بچے پیداکرنے کیلئے طرح طرح کی ترغیبات اورمراعات دے رہے ہیں۔انسان تودرکنار جہاں فطرت کیخلاف علم بغاوت بلندکرتے ہوئے جانوروں کی آبادی کنٹرول کرنے کے نام پران کاقتل عام کیا گیاتھا وہاں بھی ریاستی اقدام بلکہ انتقام بیک فائرکرگیا لہٰذاء ہمارے حکمران آبادی کنٹرول کرنے کاخیال دل سے نکال دیں اور دستیاب ریاستی وسائل کی درست تقسیم پرفوکس اوراپنی ترجیحات درست کریں۔اللہ تعالیٰ کے ہاں سے سبھی کارزق آتا ہے لیکن طاقتور ارباب اقتدار واختیار معاشرے کے ناتواں اورنحیف انسانوں کوان کے معاشی حقوق سے محروم کردیتے ہیں۔میں عینی شاہد ہوں آج سے چاردہائیاں قبل فی ایکٹر اورآج فی ایکٹر پیداوار میں زمین آسمان کا فرق ہے، شہریوں کیلئے ہر سال موسمی فروٹ اورقربانی کے جانور پچھلے برس کی نسبت زیادہ دستیاب ہوتے ہیں۔بدترین بدانتظامی اورکسانوں کے استحصال کے باوجود ہماری زمین ہربرس پچھلے سال کی نسبت زیادہ سونااگلتی ہے۔دنیا میں آنیوالے ہر بچے کے ساتھ اس کے نصیب کارزق بھی ضرور آتا ہے لیکن طاقتور افراد اس کارخ کسی دوسری طرف موڑدیتے ہیں۔معاشرے کی طاقتور شخصیات کا گودام ان کی ضرورت سے ہزاروں گنازیادہ اناج اوراجناس سے بھرارہتا ہے جبکہ ضروتمند ضروریات زندگی کیلئے ایڑیاں رگڑتے رگڑتے بھوک نامی بھوت کی خوراک بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے نظام میں کوئی نقص نہیں لیکن ہمارے ریاستی نظام میں قومی چوروں نے اپنااپنا چورراستہ بنایاہوا ہے،ان قومی چوروں کوزندانوں میں یاپھرملک میں دندناتے آدم خورچوہوں سے عام آدمی کارزق بچانے کیلئے ہر سوراخ بندکرناہوگا۔

جوقوم اپنے سینوں میں قرآن مجیدکے ہوتے ہوئے بھی سچائی تک رسائی میں ناکام ہوجائے توپھر اسے ہرطرح کے وبال اور زوال سے کوئی نہیں بچاسکتا۔اگر ہم اپنے مسائل سے نجات کاراستہ قرآن مجید میں تلاش کریں گے تووہ ہمیں مایوس نہیں کرے گا۔اگر پاکستان سمیت اسلامی ملکوں نے قرآن مجیدفرقان حمید کی تعلیمات کواپنی ترجیحات کامحوربنایاہوتا توآج وہ یہودونصاریٰ کے رحم وکرم پر نہ ہوتے،آج وہ خلافت کادامن چھوڑکرمغربی جمہوریت میں پناہ تلاش نہ کرتے،جمہوریت دوانہیں درد ہے۔ اللہ عزوجل نے سورۃ الشوریٰ میں ارشاد فرمایا، “اللہ زمین وآسمانوں کی بادشاہی کامالک ہے۔جوچاہتا ہے پیدافرماتا ہے،جس کوچاہے بیٹیاں دیتا ہے اورجس کوچاہے بیٹے دیتا ہے،جس کوچاہے بیٹے اوربیٹیاں دونوں عطاء کرتا ہے اورجس کوچاہے بانجھ کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے،”اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اوراس کا رسول کوئی امر مقرر کر دیں تو وہ اس کام میں اپنابھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی اللہ اوراس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا”۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ریاست مدینہ کے بعد کلمہ طیبہ کی بنیادپروجودمیں آنیوالی دوسری اسلامی ریاست پاکستان کوبیش قیمت معدنیات سمیت زراعت کیلئے انتہائی موزوں موسموں اورزمین سے نواز ا لیکن جہاں کھیت کھلیان سونااگلتے ہیں وہاں اہل سیاسی قیادت کاقحط ہے۔ منتخب جمہوری حکومت کے نام پرجوچند خاندان بار ی باری کریز کے دونوں طرف کھیلتے ہیں ان کی” انتقامی سیاست “نے انہیں ” انتظامی صلاحیت “سے محروم کردیا ہے۔پاکستان میں قدرتی وسائل کے باوجود عوامی مسائل کاانباردرحقیقت سیاسی بصیرت سے محروم مصنوعی اوراشتہاری قیادت کی ناقص ترجیحات کا نتیجہ ہے۔آپ دیکھتے ہوں گے کس طرح پنجاب میں بیمار محکموں کوصحتمند اورسودمندبنانے کی بجائے دھڑا دھڑ مزید محکمے جبکہ سرکاری درسگاہوں کواپ گریڈکرنے کی بجائے دانش سکول بنائے جارہے ہیں۔حکمران طبقہ سمجھتا ہے کسی خستہ” عمارت” کی مرمت سے ان کی” امارت” متاثرہوگی لہٰذا ء کوئی نیا پراجیکٹ شروع کرواس سے ایک طرف زیادہ مال بناؤاوردوسری طرف اس پرخوب سیاست بھی چمکاؤ۔”ونڈکھاؤکھنڈکھاؤ ” تخت اسلام آباد پربراجمان اتحادی حکومت کاٹریڈمارک ہے۔ حکمرانوں کاہر”منصوبہ” ان کیلئے” محبوبہ” ہے اوروہ اس کاخوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں