بھارت نے امریکا کے ساتھ فوری تجارتی معاہدے سے گریز کرتے ہوئے بہتر شرائط حاصل کرنے کے لیے مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، کئی ماہ کی بات چیت کے باوجود دونوں ممالک امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے گزشتہ ماہ دورۂ نئی دہلی کے دوران عبوری تجارتی معاہدے کو حتمی شکل نہ دے سکے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں طرف یہ توقع موجود تھی کہ ایک محدود سا معاہدہ جلد ممکن ہو سکتا ہے، تاہم نئی دہلی نے اُس وقت معاہدہ کرنے سے انکار کیا جب واشنگٹن بھارت کے اہم مطالبات پر واضح یقین دہانی نہ دے سکا۔
بھارتی حکومتی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ بھارت کسی بھی معاہدے میں چین جیسے حریف ممالک کے مقابلے میں ٹیرف کا واضح فائدہ چاہتا ہے، اور معاہدے کے بعد امریکا کی جانب سے نئی محصولات نہ لگائی جائیں۔ بھارتی عہدیدار نے کہا کہ نئی دہلی ایسے معاہدے میں جلدی نہیں کرے گا جو اس کے لیے فائدہ مند نہ ہو یا جس میں زراعت جیسے حساس شعبوں پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کو امید تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متوقع نئی ٹیرفس سے پہلے بھارت تجارتی رعایتیں دے دے گا۔ تاہم بھارت کے سخت مؤقف کے باعث معاہدے میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے بھارتی برآمدات پر زیادہ امریکی ٹیرفس کا خطرہ اور کاروباری غیر یقینی برقرار ہے۔
اس وقت زیادہ تر بھارتی مصنوعات کو امریکا میں 10 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ رواں ماہ کے آخر میں صنعتی اضافی پیداوار سے متعلق تحقیقات کے تحت زیادہ ٹیرفس متعارف کرا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے بعض ممالک، جن میں بھارت بھی شامل ہے، پر جبری مشقت سے بنی مصنوعات کی تجارت روکنے میں ناکامی کے الزام کے تحت 12.5 فیصد تک نئی ٹیرف کی تجویز بھی دی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اگر بھارت تجارتی رعایتیں چاہتا ہے تو اسے بھی اپنے طور پر رعایتیں دینی ہوں گی۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ بھارتی حکام کے ساتھ ایک تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تعمیری بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کا اعتماد اس لیے بھی بڑھا ہے کہ اس کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، معاشی خطرات کم ہوئے ہیں اور نئی دہلی دوسرے ممالک و بلاکس کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات وسیع کر رہا ہے۔
اپریل سے جون کے دوران بھارت کی مجموعی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کو بھارتی برآمدات جنگی خلل کے بعد دوبارہ بہتر ہوئیں اور مئی میں 5.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ اپریل اور مئی میں امریکا کو بھارتی برآمدات 17.29 ارب ڈالر رہیں۔
بھارت برطانیہ کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے پر بھی آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ یورپی یونین کے ساتھ معاہدہ آئندہ سال کے اوائل تک متوقع ہے۔
واشنگٹن میں قائم ایشیا سوسائٹی پالیسی ادارے کی سینئر عہدیدار وینڈی کٹلر کے مطابق مضبوط معیشت، تجارتی تنوع اور عالمی سطح پر تزویراتی اہمیت نے بھارتی مذاکرات کاروں کو کچھ برتری دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے عبوری امن معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نرمی نے بھی بھارت کے معاشی منظرنامے کو بہتر کیا ہے۔گولڈمین سیکس نے بھارت کے لیے 2026 کی معاشی ترقی کا تخمینہ 6.8 فیصد تک بڑھایا ہے، جبکہ مہنگائی اور جاری کھاتے کے خسارے کے تخمینے کم کیے ہیں۔
کمزور بھارتی روپیہ بھی برآمد کنندگان کے لیے مسابقت بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت یہ بھی سمجھتا ہے کہ امریکا کی کچھ مجوزہ محصولات کو قانونی یا سیاسی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
امریکا میں 22 ڈیموکریٹک ریاستی اٹارنی جنرلز پہلے ہی جبری مشقت سے متعلق مجوزہ محصولات پر اعتراضات داخل کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا میں محصولات پر قانونی غیر یقینی، مودی کی حالیہ ریاستی انتخابی کامیابیاں، اور کسانوں و چھوٹے کاروباروں کے تحفظ کا سیاسی دباؤ بھارت کو جلد بازی میں معاہدہ کرنے سے روک رہا ہے۔
بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے سینئر رہنما بھی کہہ چکے ہیں کہ تجارتی معاہدوں میں بھارتی کسانوں اور چھوٹے کاروباروں کا تحفظ ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت سمجھتا ہے کہ ایک کمزور اور جلد بازی میں کیے گئے معاہدے کے بجائے تاخیر یا معاہدہ نہ کرنا زیادہ بہتر ہو سکتا ہے، اگر اس کے بدلے میں اسے اپنے حساس شعبوں پر بھاری قیمت ادا کرنی پڑے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے، مگر محصولات میں برتری، زراعت، مستقبل کی محصولات اور منڈی تک رسائی جیسے معاملات پر اختلافات ابھی باقی ہیں۔