سزا سننے کے بعد سنجے دت خوف سے کانپ رہے تھے، سابق سرکاری وکیل اجول نکم کا انکشاف

بالی ووڈاداکار سنجے دت سے متعلق سابق سرکاری وکیل اجول نکم نے انکشاف کیا ہے کہ اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد اداکار خوف سے کانپ رہے تھے۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق اجول نکم نے ایک انٹرویو میں سنجے دت کے مقدمے، عدالتی فیصلے اور اس وقت کے حالات پر تفصیل سے بات کی۔

سنجے دت کو 1993 کے ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اجول نکم کے مطابق سنجے دت نے اپنے دفاع کے لیے ملک کے بڑے اور ممتاز وکلا کی خدمات حاصل کی تھیں، مگر عدالت نے آخرکار انہیں سزا سنائی۔

نکم نے کہا کہ انہوں نے عدالت میں سنجے دت کو نرمی دینے کی مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق سنجے دت کو سازش کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا، مگر وہ اسلحہ قانون کے تحت مجرم قرار پائے تھے۔ اجول نکم نے کہا کہ سنجے دت کے وکیل کا مؤقف تھا کہ چونکہ یہ ان کا پہلا جرم ہے، اس لیے انہیں ضمانتی مچلکے پر چھوڑ دیا جائے، مگر انہوں نے اس دلیل کی مخالفت کی۔

نکم کے مطابق سنجے دت کے پاس جو اسلحہ تھا، وہ داؤد ابراہیم کے اہم شوٹر سے آیا تھا، اس لیے اداکار کو اس شخص کے مجرمانہ پس منظر کا علم ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار جرم کرنے والوں کے لیے نرمی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص واقعی بے گناہی یا بدقسمت حالات میں پھنس جائے، مگر ان کے نزدیک سنجے دت کا معاملہ ایسا نہیں تھا۔

اجول نکم نے بتایا کہ عدالت نے ان کے دلائل تسلیم کیے اور سنجے دت کو سات سال قید کی سزا سنائی۔ فیصلے کے وقت سنجے دت کی حالت بیان کرتے ہوئے نکم نے کہا کہ وہ خوف سے کانپ رہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔

نکم کے مطابق سنجے دت کہہ رہے تھے کہ وہ واپس آئیں گے، جبکہ ان کی حالت بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ اجول نکم نے کہا کہ وہ سنجے دت کے قریب کھڑے تھے اور انہوں نے اداکار سے کہا کہ سنجو، میڈیا دیکھ رہا ہے، سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ نکم کے مطابق اس وقت اگر وہ سنجے دت کو سنبھالتے نہیں تو میڈیا انہیں ہی ولن بنا دیتا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی سنجے دت روتے تھے تو لوگوں کی نظر میں وہ ذمہ دار ٹھہرائے جاتے تھے، کیونکہ میڈیا کسی بھی شخص کے بارے میں عوامی تاثر بنا سکتا ہے۔ تاہم اجول نکم نے واضح کیا کہ وہ سنجے دت کو دہشت گرد نہیں سمجھتے۔

ان کے مطابق سنجے دت کی حرکت بچگانہ تھی، اور اس وقت کئی لوگ جرائم پیشہ دنیا سے متاثر ہوتے تھے۔ نکم نے کہا کہ اس دور میں کچھ لوگوں کے لیے جرائم پیشہ افراد سے تعلق رکھنا ایک طرح کی نمائش سمجھا جاتا تھا۔ اجول نکم نے کہا کہ انہیں سنجے دت سے اصل شکایت یہ تھی کہ وہ 1993 کے ممبئی دھماکوں کو روکنے میں مدد کر سکتے تھے۔

ان کے مطابق جب ابو سالم اسلحے سے بھرا ٹرک لے کر آیا، تو سنجے دت نے کچھ اسلحہ رکھا اور باقی واپس کر دیا۔ نکم نے کہا کہ اگر سنجے دت اسی وقت پولیس کو اطلاع دے دیتے تو ممکن تھا کہ دھماکوں کی سازش بے نقاب ہو جاتی، کئی جانیں بچ جاتیں اور ملوث افراد گرفتار ہو جاتے۔

انہوں نے کہا کہ یہی بات ان کے لیے سنجے دت کے خلاف سب سے بڑی شکایت تھی، لیکن اس کے باوجود وہ انہیں دہشت گرد نہیں سمجھتے۔

اجول نکم نے بتایا کہ سزا کے بعد بھی ان کی سنجے دت سے کئی بار ملاقات ہوئی اور اب دونوں کے تعلقات خوشگوار ہیں۔ نکم کے مطابق سنجے دت ان کا احترام کرتے ہیں اور انہیں اداکار سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں