فیفا ورلڈ کپ کے گروپ آئی کے میچ میں ناروے نے عراق کو ایک کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے دی۔ مانچسٹر سٹی کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ نے اپنے پہلے ورلڈ کپ میچ میں دو گول کیے اور ناروے نے آسان کامیابی حاصل کی۔
عراق کے لیے یہ میچ اس لیے بھی اہم تھا کہ وہ 40 سال بعد ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ کھیل رہا تھا۔ تاہم پاکستان کے لیے اس میچ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک اور لمحہ زیادہ اہم بن گیا۔
میچ کے 59ویں منٹ میں جب زیدان اقبال عراق کی جانب سے میدان میں اترے تو فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا۔ وہ پاکستانی نژاد پہلے کھلاڑی بن گئے جنہوں نے فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کی۔
پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم آج تک ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی۔ فیفا رینکنگ میں بھی پاکستان بہت نیچے ہے اور ملک کے کروڑوں شائقین کئی دہائیوں سے فٹبال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کو صرف باہر سے دیکھتے آئے ہیں۔
لیکن اس بار مانچسٹر میں پیدا ہونے والے 23 سالہ زیدان اقبال نے پاکستانی شائقین کو ایک مختلف خوشی دی۔ اگرچہ وہ عراق کی نمائندگی کر رہے تھے، مگر ان کا خاندانی تعلق پاکستان سے بھی جڑا ہوا ہے۔
زیدان عمار اقبال 27 اپریل 2003 کو انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عمار اقبال کا تعلق پنجاب کے شہر ساہیوال سے ہے، جبکہ ان کی والدہ آیت جنوبی عراق میں پیدا ہوئیں۔
اسی وجہ سے زیدان اقبال تین ممالک، انگلینڈ، پاکستان اور عراق میں سے کسی ایک کی نمائندگی کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے آخر کار عراق کا انتخاب کیا۔
زیدان اقبال تک عراق فٹبال ایسوسی ایشن کی رسائی سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی۔ عراقی کھلاڑیوں پر نظر رکھنے والے ایک انسٹاگرام پیج نے ان سے رابطہ کیا اور ان کے عراقی پس منظر کے بارے میں پوچھا۔ بعد میں یہ بات عراق فٹبال ایسوسی ایشن تک پہنچی، جس نے زیدان اور ان کے والدین سے رابطہ کیا۔
زیدان اقبال کے مطابق عراق کے شائقین اور فٹبال ایسوسی ایشن نے انہیں بہت محبت اور عزت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی آپ کو اتنی محبت دے تو آپ بھی اس تعلق کو محسوس کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ زیدان عراق کی انڈر 23 ٹیم میں شمولیت سے پہلے کبھی عراق نہیں گئے تھے۔ شروع میں ان کے لیے وہاں کا ماحول نیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ وہ بار بار عراق گئے اور ایک ایسا ملک، جو پہلے صرف ان کے خاندانی پس منظر کا حصہ تھا، ان کے لیے گھر جیسا بنتا گیا۔
زیدان اقبال نے کم عمری میں ہی مانچسٹر یونائیٹڈ کی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ آٹھ سال کی عمر میں کلب سے منسلک ہوئے اور تقریباً 12 سال تک وہاں رہے۔
دسمبر 2021 میں، 18 سال کی عمر میں، وہ مانچسٹر یونائیٹڈ کی جانب سے UEFA چیمپئنز لیگ کھیلنے والے پہلے برٹش ساؤتھ ایشین کھلاڑی بنے۔ تاہم انہیں کلب کی پہلی ٹیم میں مستقل مواقع نہ مل سکے، جس کے بعد وہ نیدرلینڈز کے کلب ایف سی اُتریخت منتقل ہو گئے۔
عراق کی ورلڈ کپ کوالیفائنگ مہم کے دوران زیدان اقبال ٹیم کا اہم حصہ رہے۔ انڈونیشیا کے خلاف ان کا فیصلہ کن گول بھی عراق کے لیے اہم ثابت ہوا۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن بھی ان کے کیریئر پر نظر رکھے ہوئے تھی، لیکن پاکستان اور عراق کے فٹبال نظام میں موجود فرق کے باعث زیدان کے لیے عراق کا انتخاب زیادہ مضبوط راستہ سمجھا گیا۔
فٹبال ماہرین کے مطابق پاکستان میں پیشہ ورانہ فٹبال نظام، بہتر ڈھانچے اور عالمی سطح کی تیاری کی کمی ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے بیرون ملک کھیلنے والے کئی پاکستانی نژاد کھلاڑی پاکستان کے بجائے دوسرے ممالک کا انتخاب کرتے ہیں۔
اگر زیدان اقبال پاکستان کی نمائندگی کرتے تو وہ پاکستانی فٹبال کی عالمی شناخت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ مانچسٹر یونائیٹڈ سے وابستہ تھے، ان کا پاکستان کے لیے کھیلنا ملک میں فٹبال کے مستقبل پر ایک بڑی بحث شروع کر سکتا تھا۔
لیکن زیدان نے عراق کا راستہ چنا، جہاں فٹبال کی مضبوط تاریخ، بہتر نظام اور شائقین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
ناروے کے خلاف عراق کو بھاری شکست ہوئی، لیکن پاکستان کے لیے یہ میچ ایک تاریخی لمحہ بن گیا۔ پہلی بار پاکستانی ورثے سے تعلق رکھنے والا کوئی کھلاڑی فیفا ورلڈ کپ کے میدان میں اترا۔
پاکستان کی قومی ٹیم شاید ابھی ورلڈ کپ سے بہت دور ہے، مگر زیدان اقبال کی کہانی نے یہ ضرور دکھا دیا ہے کہ پاکستانی نژاد کھلاڑی بھی فٹبال کے سب سے بڑے عالمی اسٹیج تک پہنچ سکتے ہیں۔