ہم کہاں کھڑے ہیں؟

میرا دل روتا ہے۔۔۔ پاکستان کے لیے۔ کبھی خبروں کی سرخیاں دیکھ کر، کبھی بازار میں ایک عام آدمی کے چہرے پر پھیلی پریشانی دیکھ کر، کبھی کسی نوجوان کی آنکھوں میں مستقبل کی بے یقینی دیکھ کر اور کبھی اقتدار کے ایوانوں میں جاری کشمکش کو دیکھ کر۔ دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہم واقعی اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا؟ یا ہم اپنے اپنے مفادات، اپنی اپنی سیاسی وابستگیوں، اپنی انا اور اپنی ضد میں اتنے الجھ چکے ہیں کہ وطن کی آواز ہمیں سنائی دینا ہی بند ہوگئی ہے؟ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، ایک خواب تھا۔ ایک ایسا خواب جس کے لیے لوگوں نے اپنے گھر چھوڑے، اپنے پیارے گنوائے، ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں اور ایک نئی ریاست کے قیام کے لیے اپنی زندگیاں بدل دیں۔ آج سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنا سفر طے کیا، سوال یہ ہے کہ کہیں راستے میں ہم نے منزل ہی تو نہیں بھلا دی؟

ہمیں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے ۔ ایک حکومت اپنی مدت پوری کرکے چلی جاتی ہے، ایک وزیر کا عہدہ ختم ہوجاتا ہے، ایک سیاسی نعرہ وقت کے ساتھ کمزور پڑجاتا ہے، مگر غلط فیصلوں کا بوجھ عوام برسوں اٹھا سکتے ہیں۔ اسی لیے فیصلہ کرنے والوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس فیصلے سے آج کون جیتے گا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کا اثر آنے والی نسلوں پر کیا ہوگا۔ غصہ ،ضد اور ہٹ دھرمی انسان سے وہ کچھ کروا لیتے ہیں جو ٹھنڈے دل سے شاید وہ کبھی نہ کرے۔ جب فریقین اپنی اپنی جگہ سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو کمزوری سمجھنے لگیں تو مسئلہ حل نہیں ہوتا، صرف وقت گزرتا ہے اور نقصان بڑھتا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی زندگی میں ہر اختلاف کو آخری جنگ بنانا ضروری نہیں۔ کچھ معاملات میں سمجھوتہ شکست نہیں ہوتا، بلکہ دور اندیشی ہوتی ہے۔ اپنی بات پر نظرثانی کرنا کمزوری نہیں، شعور کی علامت ہے۔ دوسرے کی بات سن لینا اپنی حیثیت کھونا نہیں، بلکہ اپنے ظرف کا اظہار ہے۔ مضبوط معاشرہ وہ نہیں جہاں سب لوگ ایک جیسا سوچیں؛ مضبوط معاشرہ وہ ہے جہاں مختلف سوچ رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ منزل پر متفق ہوسکیں۔

سوال صرف سیاستدانوں سے نہیں، ہم سب سے بھی ہے۔ کیا ہم واقعی اس معاشرے کا حصہ نہیں جہاں ہم اپنے مفاد کے لیے اصول بدل لیتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کی غلطی پر شور اور اپنی غلطی پر خاموشی اختیار نہیں کرتے؟ پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر آنے والی رپورٹس اور مختلف معاشی و سماجی اشاریے ہمیں بار بار سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہمیں ان رپورٹس سے ناراض ہونے کے بجائے انہیں آئینے کی طرح دیکھنا چاہیے۔ اگر کوئی کمزوری سامنے آرہی ہے تو اسے چھپانے کے بجائے درست کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ پاکستان کے مسائل بڑے ہیں، مگر پاکستان کی صلاحیت بھی بڑی ہے۔ ہمارے پاس نوجوان ہیں، وسائل ہیں، محنت کرنے والے لوگ ہیں، زرعی زمین ہے، صنعت اور تجارت کی گنجائش ہے، ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے والے لوگ ہیں اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیت ثابت کرنے والے پاکستانی موجود ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، اسے بہتر نظم، مستقل پالیسی اور دیانت دارانہ عمل کے ذریعے قومی طاقت میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

لیکن اس ساری صورتِ حال میں ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ قوموں کی تقدیر صرف حکمرانوں کے فیصلوں سے نہیں، عوام کے اجتماعی کردار سے بھی بنتی ہے۔ اگر ہم تبدیلی چاہتے ہیں تو اس کا آغاز دوسروں کو بدلنے کے مطالبے سے نہیں، خود احتسابی سے کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب انسان بننے کی تعلیم نہیں بلکہ اچھا شہری بننے کا شعور بھی دینا ہوگا۔ انہیں بتانا ہوگا کہ ایمانداری صرف تقریروں کا موضوع نہیں، روزمرہ زندگی کا اصول ہے؛ قانون کی پاسداری صرف دوسروں کی ذمہ داری نہیں، ہماری اپنی ذمہ داری بھی ہے۔ سڑک پر کچرا پھینکنے سے لے کر سرکاری وسائل کے غلط استعمال تک، سفارش سے لے کر میرٹ کی پامالی تک، چھوٹی سمجھی جانے والی بے ضابطگیاں ہی رفتہ رفتہ قومی کردار کو کمزور کرتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ سیاسی وابستگی ہماری قومی شناخت سے بڑی نہیں ہوسکتی اور کسی جماعت کی حمایت کا مطلب اس کی ہر غلطی کا دفاع کرنا نہیں۔ اختلافِ رائے ہمارا حق ہے، مگر نفرت پھیلانا ہمارا حق نہیں۔ تنقید ضروری ہے، مگر تنقید کے ساتھ حل پیش کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی تعمیر کسی ایک ادارے، جماعت یا طبقے کا کام نہیں؛ یہ ایک مشترکہ عہد ہے، جس میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ جب ہم اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کریں گے، تبھی اجتماعی تبدیلی محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک حقیقت بن سکے گی۔

اب صرف افسوس نہیں، عمل کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے سب سے پہلے قومی سطح پر تعلیم، صحت، روزگار، معیشت، امن اور قانون کی بالادستی کو مستقل ترجیحات بنانا ہوگا؛ حکومتیں بدلیں مگر قومی پالیسیاں نہ بدلیں۔ نوجوانوں کو صرف سرکاری ملازمت کا منتظر رکھنے کے بجائے فنی تعلیم، جدید ہنر، کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مہنگائی کا مقابلہ صرف قیمتیں کم کرنے سے نہیں بلکہ عوام کی آمدن اور قوتِ خرید بڑھانے سے کیا جائے۔ ٹیکس نظام کو سادہ، منصفانہ اور وسیع کیا جائے، پیداواری شعبوں، زراعت، صنعت، آئی ٹی اور برآمدات کو فروغ دیا جائے تاکہ قرض کے بجائے معیشت اپنی آمدن پیدا کرے۔ قانون سب کے لیے یکساں ہو، ادارے مضبوط اور بااختیار ہوں، مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات اور وسائل ملیں تاکہ مسائل نچلی سطح پر حل ہوں۔ سیاسی اختلاف کو دشمنی کے بجائے مکالمے میں تبدیل کیا جائے اور قومی معاملات پر کم از کم بنیادی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے اجتماعی رویے بدلنے ہوں گے؛ انا، ضد اور نفرت سے اوپر اٹھ کر میرٹ، برداشت، ذمہ داری اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ پاکستان کو صرف بہتر حکمران نہیں بلکہ بہتر نظام اور ذمہ دار شہری بھی درکار ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں