پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دوحہ میں قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کے دوران اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ امت مسلمہ کو اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف جمعرات کو دوحہ پہنچے جہاں اُنہوں نے قطری قیادت سے ملاقات کی۔ وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق، شہباز شریف نے دوحہ پر اسرائیلی حملے کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور قطری قیادت کو اس بلاجواز اشتعال انگیزی کے خلاف پاکستان کی مکمل حمایت اور یکجہتی کا یقین دلایا۔
یاد رہے کہ منگل کو اسرائیل نے دوحہ میں حماس کے مذاکرات کاروں پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے مطابق، اس کے مذاکرات کار محفوظ رہے، تاہم تنظیم نے اپنے پانچ دیگر ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے اس حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اسے درست اقدام کہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے ملک نے دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز کو نشانہ بنایا ہے۔
وزیرِ اعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق، شہباز شریف نے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی ڈھٹائی پر مبنی جارحیت کو روکنا ہوگا اور امت کو اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قطر کے امیر نے اظہارِ یکجہتی کے لیے دوحہ کا دورہ کرنے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔