ایشیا میں اعتماد سازی کے لیے ازبکستان کا کردار، باکو سربراہی اجلاس سے نئی توقعات

ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران مختلف ممالک کے درمیان مکالمے اور اعتماد کی بحالی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں ایشیا میں اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس، یعنی سیکا، کا ساتواں سربراہی اجلاس 15 اکتوبر کو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں ازبکستان کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہے، جو علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے کثیرالجہتی سفارت کاری کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔

سیکا ایک ایسا بین الاقوامی فورم ہے جو مختلف سیاسی مؤقف اور قومی مفادات رکھنے والے ایشیائی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔ یہ کوئی فوجی اتحاد یا سیاسی بلاک نہیں، بلکہ اس کی بنیاد باہمی احترام، مساوات، رضاکارانہ شرکت اور اتفاقِ رائے پر ہے۔ یہی خصوصیت رکن ممالک کو اپنے اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی مذاکرات اور تعاون کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کی سیکا سے متعلق پالیسی تین بنیادی ترجیحات کے گرد گھومتی ہے: سلامتی کو وسیع تناظر میں دیکھنا، سیاسی وعدوں کو عملی تعاون میں تبدیل کرنا اور ایسے علاقائی مسائل کے مشترکہ حل تلاش کرنا جن سے کوئی ایک ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا۔ صدر مرزیایوف نے 2019 میں دوشنبے اور 2022 میں آستانہ کے سربراہی اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے ان ترجیحات کو اجاگر کیا تھا۔

پہلی ترجیح جامع سلامتی کا تصور ہے۔ ازبکستان کے نزدیک امن صرف سیاسی فیصلوں یا طاقت کے استعمال سے قائم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے تعلیم، نوجوانوں کے لیے مواقع، ثقافتی روابط اور انتہا پسندی کی روک تھام بھی ضروری ہے۔ اسی سوچ کے تحت ازبکستان نے سیکا کے یوتھ ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، جبکہ ازبکستان کی یوتھ افیئرز ایجنسی سیکا یوتھ کونسل کی شریک سربراہ بھی رہی۔ اس کے علاوہ تاشقند نے اعتماد سازی کے اقدامات پر عمل درآمد میں رابطہ کاری کا کردار ادا کیا، جس کا مقصد سفارتی اعلانات کو عملی سرگرمیوں میں تبدیل کرنا ہے۔

دوسری ترجیح اقتصادی اور سماجی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ ازبکستان نے 2019 میں تجارت کے فروغ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی معاونت، ٹرانسپورٹ روابط کی ترقی اور بحیرۂ ارال کی تباہی سمیت ماحولیاتی مسائل کے مشترکہ حل پر تجاویز پیش کیں۔ 2022 میں اس توجہ کو مزید عملی شکل دیتے ہوئے غذائی تحفظ، ڈیجیٹل ترقی، جدت، پیداوار اور لاجسٹکس کے مضبوط نظام کو اہمیت دی گئی۔

اس حکمت عملی کے پیچھے بنیادی تصور یہ ہے کہ جب ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی روابط بڑھتے ہیں تو ان کے پاس پُرامن اور مستحکم تعلقات برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ مفادات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ازبکستان علاقائی سلامتی کو اقتصادی ترقی سے الگ نہیں دیکھتا۔

تیسری ترجیح ایسے علاقائی چیلنجز کا حل ہے جن کے لیے مشترکہ بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ افغانستان اس کی ایک اہم مثال ہے۔ صدر مرزائیوف نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی مذاکراتی گروپ قائم کرنے کی تجویز دی تھی، تاکہ افغانستان سے متعلق مسائل پر مربوط سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں ازبکستان نے ’’گرین ایشیا‘‘ اقدام بھی پیش کیا، جس کا مقصد شجرکاری، ماحولیاتی ماہرین کے درمیان تعاون اور خطرے سے دوچار قدرتی نظاموں کے تحفظ کو فروغ دینا ہے۔ ان تجاویز کا مقصد ایسے مسائل کو بین الاقوامی ایجنڈے پر برقرار رکھنا ہے جو علاقائی استحکام اور مستقبل کی ترقی پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔

اب توجہ باکو میں ہونے والے ساتویں سیکا سربراہی اجلاس پر مرکوز ہے، جہاں فورم کی آئندہ سمت اور عملی نتائج کی اہمیت نمایاں ہوگی۔ ٹرانسپورٹ اور اقتصادی روابط، ڈیجیٹلائزیشن، پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ ایسے شعبے ہیں جن میں مشترکہ اقدامات خطے کے ممالک کے لیے ٹھوس فوائد پیدا کر سکتے ہیں۔

سیکا کے مؤثر کردار کے لیے تین پہلو خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلا، سیاسی اعتماد کو برقرار رکھنا تاکہ اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رہیں۔ دوسرا، تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے ذریعے ممالک کو معاشی طور پر قریب لانا۔ تیسرا، تعلیم، نوجوانوں کے تبادلوں، ثقافت اور علمی تعاون کے ذریعے معاشروں کے درمیان طویل مدتی روابط کو مضبوط بنانا۔
ازبکستان ان تینوں شعبوں میں مکالمے اور عملی تعاون کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، کسی بھی کثیرالجہتی فورم کی کامیابی کا انحصار صرف تجاویز پیش کرنے پر نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد اور رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے برقرار رکھنے پر ہوتا ہے۔

باکو اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب ایشیائی ممالک کو بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت اور علاقائی اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے ماحول میں سیکا کی اہمیت اس صلاحیت سے جڑی ہے کہ آیا یہ ممالک کو مذاکرات کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی تعاون میں قابلِ پیمائش پیش رفت بھی حاصل کر سکتا ہے۔

ازبکستان کی سفارتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اعتماد کو محض سیاسی نعرہ بننے کے بجائے عملی تعاون کی بنیاد بنایا جائے، تاکہ ایشیا میں امن، استحکام اور مشترکہ خوش حالی کے امکانات کو مضبوط کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں