امام بخاری کمپلیکس کے انتظام میں دلچسپی، ازبکستان نے ترک سرمایہ کاروں کو شراکت داری کی دعوت دے دی

ازبکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ معیشت و مالیات جمشید کوچقاروف نے کہا ہے کہ ترک سرمایہ کاروں نے سمرقند کے قریب واقع امام بخاری کمپلیکس کے انتظام میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے یہ بات تاشقند بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم 2026 کے موقع پر منعقدہ ازبکستان-ترکیہ کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

جمشید کوچقاروف نے کہا کہ ازبکستان میں مذہبی، ثقافتی اور تعلیمی سیاحت کے شعبے میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اسلامی تہذیب کے مرکز، امام بخاری کمپلیکس اور امام ماتریدی کمپلیکس جیسے حالیہ منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے ترک کمپنیوں کو سیاحت کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ ازبکستان اور ترکیہ کے درمیان سیاحتی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے اور ترک کاروباری ادارے مشترکہ تشہیری منصوبوں، ہوٹلوں اور خدمات کے شعبے کی ترقی اور سیاحوں کی تعداد بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ترک سرمایہ کاروں نے خاص طور پر امام بخاری زیارتی کمپلیکس کے انتظام میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جو ازبکستان کے اہم ترین مذہبی اور ثقافتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوچقاروف نے کہا کہ ازبکستان میں ترک کمپنیوں کی دلچسپی گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھی ہے اور اس وقت 2200 سے زائد ترک کمپنیاں ملک میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم گزشتہ چھ برسوں میں تین گنا بڑھ کر 2025 میں تین ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 2026 کے پہلے چار ماہ میں باہمی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا ہدف آنے والے برسوں میں تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر تک پہنچانا ہے، جس کے لیے کاروباری فورمز، کمپنیوں کے درمیان ملاقاتیں اور عملی سرمایہ کاری معاہدے انتہائی اہم ہیں۔

کوچقاروف نے بتایا کہ ازبکستان اور ترکیہ ترک لیبر مارکیٹ میں ازبک ماہرین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے پر بھی کام کر رہے ہیں، جبکہ پنشن اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی مذاکرات جاری ہیں۔

ازبکستان-ترکیہ کاروباری فورم تاشقند بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم 2026 کے تحت منعقد ہوا، جس میں تقریباً 100 ممالک سے 9 ہزار کے قریب مندوبین شریک ہوئے۔ فورم میں مصنوعی ذہانت، توانائی، نقل و حمل، اہم معدنیات، اسلامی مالیات، غذائی تحفظ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں