ازبکستان میں منشیات کے خلاف سخت قوانین منظور، آن لائن منشیات فروشی کی روک تھام پر زور

ازبکستان کے صدر شوکت مرزایئوف نے منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی فروخت کے خلاف سخت قانونی اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کا مقصد عوامی صحت کا تحفظ، خصوصاً نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے بچانا اور ملک میں مصنوعی منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کا سدباب کرنا ہے۔

صدارتی پریس سروس کے مطابق صدر مرزائیوف نے منشیات کے استعمال سے عوامی صحت اور آئندہ نسلوں پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے مجوزہ قانونی اصلاحات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سڑکوں کی حفاظت سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے۔

حکام نے صدر کو بتایا کہ حال ہی میں منظور کیے گئے قانون کے تحت منشیات، نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادوں، ان کے متبادل کیمیکلز اور دیگر خطرناک اشیا کی غیر قانونی خرید و فروخت اور ترسیل پر سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت ازبکستان کے فوجداری قانون میں ’’عوامی صحت اور قوم کے جینیاتی تحفظ کے خلاف جرائم‘‘ کے عنوان سے ایک نیا باب بھی شامل کیا گیا ہے۔

نئے قانون کے مطابق غیر قانونی منشیات تیار کرنے والی لیبارٹریوں کے قیام، منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک چلانے اور ایسی جگہوں کے انتظام پر الگ سے فوجداری ذمہ داری عائد کی جائے گی جہاں منشیات کی فروخت یا استعمال ہوتا ہو۔ حکام کے مطابق منشیات سے متعلق دس سے زائد اقسام کے جرائم پر پہلے سے زیادہ سخت سزائیں دی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں