ازبک صدر شوکت مرزائیوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلیفونک رابطہ، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے، دوطرفہ تعاون کی موجودہ صورتحال اور اہم بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بات چیت کے آغاز میں صدر شوکت مرزائیوف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر ایک بار پھر مبارکباد دی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ازبکستان اور امریکا کے تعلقات غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان قریبی اور اعتماد پر مبنی رابطہ قائم ہوا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح پر طے پانے والے معاہدوں پر مسلسل عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور ازبکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔

گفتگو کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں بڑھتے رابطوں اور تبادلوں کو سراہا گیا۔ رہنماؤں نے تین سالہ اقتصادی تعاون پروگرام، امریکا ازبکستان بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کونسل کے پہلے اجلاس اور ازبکستان کے علاقوں اور امریکی ریاستوں کے درمیان بڑھتے روابط کا بھی ذکر کیا۔

دونوں رہنماؤں کے مطابق امریکی شہریوں کے لیے ازبکستان کی جانب سے ویزا فری نظام متعارف کرانے سے کاروباری رابطوں کو فروغ مل رہا ہے۔ دونوں ممالک سول ایوی ایشن، آٹوموبائل مینوفیکچرنگ، کان کنی، انفراسٹرکچر، توانائی، دھات سازی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے دونوں صدور نے عالمی سلامتی کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی و علاقائی تنازعات کے پُرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہونے والی دوطرفہ اور کثیرالجہتی سرگرمیوں اور ملاقاتوں کے شیڈول کا بھی جائزہ لیا۔ گفتگو کے اختتام پر صدر شوکت مرزائیوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مناسب وقت پر ازبکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔

اپنا تبصرہ لکھیں