میٹا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی اوپن ویٹ حکمتِ عملی کو آگے بڑھاتے ہوئے نیا اے آئی ماڈل میوز گلیمر متعارف کرا دیا ہے، جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے امریکا میں اوپن سورس اے آئی کے لیے ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنے پر زور دیا ہے تاکہ امریکی کمپنیاں چینی حریفوں کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میوز گلیمر کو بڑے اور انتہائی طاقتور اے آئی ماڈلز کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا رکھا گیا ہے، تاہم اسے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ ایک ہی گرافکس کارڈ کے ساتھ میک یا پی سی پر خودکار نوعیت کے کام انجام دے سکے۔ میٹا کا مقصد ایسے اے آئی نظاموں کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانا ہے جو براہِ راست صارفین کے اپنے آلات پر چل سکیں۔
میٹا کے چیئرمین مارک زکربرگ نے نئے ماڈل کے اجرا کے موقع پر کہا کہ کمپنی جلد مزید بڑے اے آئی ماڈلز بھی متعارف کرائے گی۔ انہوں نے اپنے 14 صفحات پر مشتمل مضمون دی فیوچر از فار ایوری ون میں اس مؤقف کی حمایت کی کہ مصنوعی ذہانت کو چند کمپنیوں یا اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے زیادہ وسیع پیمانے پر دستیاب ہونا چاہیے۔
زکربرگ نے اس خیال پر بھی تنقید کی کہ اے آئی اتنی خطرناک ٹیکنالوجی ہے کہ اسے محفوظ رکھنے کے لیے طاقت کو چند اداروں کے ہاتھ میں مرکوز کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسا تصور خود کئی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، جبکہ اوپن ویٹ ماڈلز زیادہ لوگوں اور اداروں کو اے آئی ٹیکنالوجی اپنی ضروریات کے مطابق استعمال اور تبدیل کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
اوپن ویٹ ماڈلز عام طور پر اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے اداروں کے بڑے بند ماڈلز کے مقابلے میں کم لاگت کے ہوتے ہیں۔ ان کے بنیادی حصوں تک رسائی زیادہ کھلی ہوتی ہے، جس کے باعث کاروباری ادارے انہیں اپنی ضروریات کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ حالیہ سکیورٹی واقعات اور بڑھتے ہوئے اے آئی اخراجات نے بھی ایسے ماڈلز میں دلچسپی بڑھائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کی کئی کمپنیاں اوپن ویٹ اے آئی کی دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ مون شاٹ کا کیمی کے تھری، علی بابا کا کیوین 3.8 میکس اور ڈیپ سیک کا وی 4 فلیش ان ماڈلز میں شامل ہیں جو بڑے امریکی نظاموں کے مقابلے کی کارکردگی دکھا رہے ہیں، جبکہ امریکا کی اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل کے نمایاں ماڈلز زیادہ تر بند نوعیت کے ہیں۔
میٹا مستقبل میں میوز اسپارک 1.2 کے وزن بھی جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے کمپنی اپنا زیادہ جدید ماڈل قرار دے رہی ہے۔ یہ ماڈل گزشتہ سال قائم کی گئی مہنگی سپر انٹیلیجنس ٹیم نے تیار کیا ہے۔ کمپنی طویل عرصے سے اوپن ماڈلز کی حامی رہی ہے، تاہم گزشتہ سال لاما 4 کے کمزور ردِعمل کے بعد اسے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کرنا پڑی تھی۔
زکربرگ نے امریکا میں اے آئی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے بھی پالیسی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق چین جیسے ممالک کے مقابلے میں امریکا میں بڑے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفراسٹرکچر بنانا زیادہ مشکل ہے۔ میٹا رواں سال مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر 145 ارب ڈالر تک خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جبکہ کمپنی نے مقامی آبادیوں کے خدشات کم کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر کے نئے فنڈ کا بھی اعلان کیا ہے۔
میٹا کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ امریکا کو اوپن ویٹ اے آئی میں عالمی برتری حاصل کرنے کے لیے ڈیٹا کے استعمال اور ماڈل ڈسٹلیشن سمیت کئی پالیسیوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیوں پر تربیتی ڈیٹا کے حوالے سے زیادہ پابندیاں ہیں، جبکہ غیر ملکی لیبارٹریوں کو بعض پہلوؤں میں برتری حاصل ہے۔ میٹا نے یہ بھی کہا ہے کہ مستقبل میں ماڈلز جاری کرنے کے حفاظتی معیار کی منظوری کے لیے کمپنی کے آزاد ڈائریکٹرز کو اختیارات دینے والا نیا گورننس نظام قائم کیا جائے گا۔