پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف نے کہا ہے کہ ازبکستان اور پاکستان کے تعلقات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور اب دونوں ممالک میڈیا، سیاحت اور عوامی روابط کو بھی دوطرفہ شراکت داری کا اہم حصہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ ازبکستان کے 10 صحافی، ٹی وی میزبان، بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پاکستان کے دورے پر ہیں۔
ازبک سفیر کے مطابق وفد میں ازبکستان کی قومی خبر رساں ایجنسی، نیشنل ٹیلی ویژن اینڈ ریڈیو کمپنی، ’اوزبکستان 24‘، ’میننگ یورٹیم‘، ’رینیسنس ٹی وی‘، ’دریو ڈاٹ یو زیڈ‘ اور ’خبر ڈاٹ یو زیڈ‘ سمیت مختلف میڈیا اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ازبک میڈیا وفد وزارتِ اطلاعات و نشریات کی دعوت پر پاکستان آیا اور اسے پاکستان–ازبکستان تعلقات، تجارت اور علاقائی رابطوں پر بریفنگ دی گئی۔
علی شیر تختائیف کے مطابق وفد کے ساتھ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، براہِ راست فضائی رابطوں، سیاحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور عوامی روابط میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت ازبک صدر شوکت مرزیایوف کے 5 اور 6 فروری 2026 کے دورۂ پاکستان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی نئی رفتار کا حصہ ہے۔ اس دورے کے مشترکہ اعلامیے میں بھی تجارت، علاقائی روابط اور عوامی تبادلوں کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ازبک سفیر نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ہفتہ وار آٹھ براہِ راست پروازیں چل رہی ہیں۔ ستمبر میں تاشقند اور کراچی کے درمیان دو نئی ہفتہ وار پروازوں کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی تعداد چھ سے بڑھ کر آٹھ ہو گئی تھی۔
سیاحت کے حوالے سے سفیر نے کہا کہ 2025 میں تقریباً 20 ہزار پاکستانیوں نے ازبکستان کا دورہ کیا۔ ازبکستان کے سیاحتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان سے 18 ہزار 752 سیاح ازبکستان گئے تھے، جبکہ 2026 کے پہلے سات ماہ میں یہ تعداد 13 ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔
علی شیر تختائیف کے مطابق دونوں ممالک اب صحافیوں اور بلاگرز کے باہمی دوروں، مشترکہ میڈیا منصوبوں اور پاکستان و ازبکستان کی ثقافت، سیاحت اور ترقی سے متعلق کہانیاں ایک دوسرے کے عوام تک پہنچانے کے لیے تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممالک حقیقی معنوں میں اسی وقت ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں جب ان کے عوام کے درمیان براہِ راست روابط مضبوط ہوں۔